اتوار,  02  اگست 2026ء
اسپین نے 48 ہزار سے زائد تارکین وطن کو واپس مراکش دھکیل دیا

میڈرڈ(روشن پاکستان نیوز): اسپین نے 48 ہزار 300 تارکین وطن کو واپس مراکش دھکیل دیا ہے۔

مراکش سے سرحد کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کے بعد دسیوں ہزار تارکینِ وطن کو تقریباً اتنی ہی تیزی سے سیوتا سے نکال دیا گیا ہے جتنی تیزی سے وہ وہاں پہنچے تھے، اور ساحلوں اور فٹ پاتھوں پر دوبارہ سکون لوٹ آیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اسپین نے شہر سیوتا میں بڑے پیمانے پر داخل ہونے والے تارکینِ وطن کو مراکش واپس بھیجنا شروع کر دیا ہے، اب تک اڑتالیس ہزار سے زائد تارکین وطن کو واپس بھیج دیا گیا ہے، حکام نے بتایا کہ گزشتہ روز 60 ہزار افراد غیر قانونی طور پر اسپین میں داخل ہوئے تھے۔

اسپین کی سرحد تک پہنچنے کی کوشش کے دوران 67 مراکشی تارکین وطن ہلاک ہو گئے تھے، دوسری طرف سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اٹلی نے اسپین کے ساتھ سرحدیں بند کر دی ہیں۔

ایران جنگ کے باعث برطانیہ میں پیٹرول کی قیمت ایک بار پھر نئی بلند ترین سطح

اسپین کے حکام کے مطابق تقریباً 50 ہزار افراد رضاکارانہ طور پر مراکش واپس جا چکے ہیں، جب کہ بعض تارکینِ وطن کا کہنا ہے کہ شدید بھوک، تھکن، غیر محفوظ حالات اور مقامی سطح پر مخالفت نے انھیں واپس جانے پر مجبور کیا۔

اسپین نے سیوتا اور مراکش کے درمیان سمندری سرحد پر تقریباً 500 میٹر طویل رکاوٹی باڑ بھی نصب کر دی ہے تاکہ مزید آمد کو روکا جا سکے۔ اس واقعے نے اسپین اور مراکش کے درمیان سرحدی تعاون اور یورپ کی تارکینِ وطن سے متعلق پالیسی پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

مزید خبریں