لندن (روشن پاکستان نیوز ) برطانیہ کے نو منتخب وزیراعظم اینڈی برنہم نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حالیہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ان کی قیادت سنبھالنے کے بعد لیبر پارٹی کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ متعدد سرویز میں وہ اپنے سیاسی حریفوں سے بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اینڈی برنہم نے وزارتِ عظمیٰ سنبھالتے ہی مہنگائی کے دباؤ میں کمی، پبلک ٹرانسپورٹ میں ریلیف، نوجوانوں کے لیے فنی تعلیم کے فروغ اور اختیارات کی مقامی سطح پر منتقلی جیسے اقدامات پر زور دیا، جس سے خاص طور پر نوجوان ووٹرز میں ان کے بارے میں مثبت تاثر پیدا ہوا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی نوجوان صارفین کی جانب سے ان کے سادہ اندازِ سیاست، عوامی رابطے اور عملی اصلاحات کے وعدوں کو سراہا جا رہا ہے۔ کئی تبصروں میں انہیں “نئی سوچ رکھنے والا رہنما” قرار دیا گیا، جبکہ بعض نوجوانوں نے کہا کہ وہ روزگار، تعلیم اور رہائشی مسائل کے حل کے لیے ان سے عملی اقدامات کی توقع رکھتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ صارفین نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اصل کامیابی کا انحصار وعدوں پر عمل درآمد سے ہوگا، صرف ابتدائی اعلانات کافی نہیں ہوں گے۔
برطانیہ میں جیل نیل پالش پر پابندی، صحت کے خدشات کے باعث حکومت کا بڑا فیصلہ
رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں نوجوان ووٹرز اب روایتی نعروں کے بجائے مہنگائی، ملازمتوں، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی اور رہائش جیسے عملی مسائل پر توجہ دینے والی قیادت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسی رجحان نے اینڈی برنہم کو ابتدائی دنوں میں نوجوان طبقے میں خاصی پذیرائی دلائی ہے، تاہم یہ مقبولیت برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو اپنے وعدوں پر مؤثر عمل درآمد کرنا ہوگا۔











