برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی عائد
برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی عائد

لندن (روشن پاکستان نیوز) برطانوی حکومت نے نئی نسل کے تحفظ کے لیے ایک انتہائی بڑا اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اس سخت قانون کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہم اس موجودہ سسٹم کو مزید چلنے نہیں دیں گے جو ہمارے بچوں کے مستقبل کو تباہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کا یہ نیا اقدام آسٹریلیا کے قانون سے بھی زیادہ سخت اور وسیع ہو گا۔

برطانیہ میں نئے قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے جنسی خصوصیات والے اے آئی چیٹ بوٹس پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ گیمنگ پلیٹ فارمز پر بچوں کے اجنبیوں سے بات چیت کرنے کے فیچر کو بھی بلاک کیا جائے گا۔ برطانوی وزیر اعظم نے “لیٹ نائٹ اسکرولنگ” کے خاتمے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کے لیے رات گئے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔

برطانیہ نے امریکا ایران معاہدے کے نفاذ میں مدد کی پیشکش کر دی

وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ ہم نے بڑی ٹیک کمپنیوں کے بجائے برطانوی معاشرے کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس قانون سازی سے قبل کی جانے والی عوامی مشاورت میں 91 فیصد والدین نے بچوں کے لیے سوشل میڈیا بلاک کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ٹیک کمپنیوں کو 3 ماہ کا الٹی میٹم دیا جا چکا ہے کہ وہ بچوں کے فونز پر نازیبا تصاویر کی شیئرنگ کو ہر صورت روکیں۔

مزید خبریں