واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر 10 فیصد ‘ گلوبل ٹیرف’ (Global Tariff) عائد کرنے کا ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا ہے۔ جس کا مقصد امریکی معیشت اور مقامی صنعتوں کا تحفظ کرنا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس اہم تجارتی فیصلے کے گلوبل معیشت پراہم اثرات ہونے کا امکان ہے، نئی ٹیرف وار چھڑ جانے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ پاکستان،بھارت، چین، جاپان، جنوبی کوریا، برازیل اور سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک سے آنے والی مصنوعات پر دس فیصد گلوبل ٹیکس کے ساتھ مزید 12.5 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ کینیڈا، میکسیکو، یورپی یونین، تائیوان، برطانیہ اور دیگر ممالک سے درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف لاگو ہوگا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی اعلیٰ تجارتی مذاکرات کار نئی دہلی میں بھارتی حکام کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے 3 روزہ مذاکرات کررہے ہیں۔ امریکی تجارتی دفتر کی تحقیقات کے مطابق بھارت اُن 54 معیشتوں میں شامل ہے جنہوں نے جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد نہیں کی یا اس پر موثر عمل درآمد نہیں کیا۔
قانونی رسہ کشی اور پس منظر
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومت میں آتے ہی دنیا کے بہت سے ملکوں کے ساتھ ٹیرف وار چھیڑ دی تھی، انہوں نے چین پر دو سو فیصد تک ٹیرف لگایا اور اپنے پڑوسی ملکون کینیڈا اور میکسیکو پر بھی بھاری ٹیرف لگائے، انڈیا، یورپ ، آسٹریلیا اور بہت سے دوسرے ملکوں پر بھی ٹرمپ کے نئی شرح سے عائد کئے ٹیرف نے امریکہ اور ان ممالک کے درمیان تعلقات کو سخت تناؤ سے دوچار کئے رکھا۔
امریکہ کی سپریم کورٹ کا فیصلہ
اس سٹیرف وار کے دوران صدر ٹرمپ نے دوسرے ملکوں پر بہت بھاری ٹیرف لگانے کے لئے نیشنل ایمرجنسی ایکٹ (IEEPA) کو استعمال کیا تھا اور اس ایکٹ کی تشریح کرتے ہوئے اپنے لئے یہ اختیار حاصل ہونے کا دعویٰ کیا تھا کہ وہ موجودہ سے کئی گنا زیادہ ٹیرف بھی لگا سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے لگائے ہوئے بھاری ٹیرفس نے امریکہ کو سامان بیچنے والے ملکوں کی کمپنیوں اور عالمی معیشت کو تو جو نقصان پہنچایا سو پہنچایا، خود امریکہ کے اندر امپورٹرز اور امپورٹڈ سامان فروخت کرنے سے منسلک تمام سٹورز اور کاروباری افراد سخت مشکل میں پڑ گئے۔ لوگوں کے بھاری نقصانات ہوئے۔ کچھ لوگوں نے صدر ٹرمپ کے ان ٹیرف اقدامات کو عدالتوں مین چیلنج کیا۔ ایسی ایک درخواست کی سماعت کرنے کے بعد سپریم کورٹ نےصدر ٹرمپ کے عائد کئے تمام ٹیرفس کو غیر قانونی قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔
نیا قانون اور عارضی مدت
سپریم کورٹ کے حکم سے شدید جھٹکا کھانےکے بعد، صدر ٹرمپ نے 1974 کے تجارتی ایکٹ (Trade Act) کی دفعہ 122 کا استعمال کرتے ہوئے 150 دنوں کے لیے عارضی طور پر یہ 10 فیصد ڈیوٹی لاگو کی ہے۔ اس سے زیادہ مدت تک ٹیرف نافذ رکھنے کے لئے صدر ٹرمپ کو کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔
ٹیرف بڑھانے کا امکان
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر یہ ارادہ ظاہر کیا ہے کہ وہ ٹیرف کی اس بنیادی شرح کو 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کے لیے انتظامی اقدامات کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
مستثنیٰ اشیا اور تجارتی معاہدے
صدر ٹرمپ کے حالیہ گلوبل ٹیرف کے تمام ممالک پر نفاذ کے باوجود، کچھ اہم ترین شعبوں اور کموڈٹیز کو اس 10 فیصد عارضی ٹیرف ڈیوٹی سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ ان میں امریکہ امپورٹ کی جانے والی ادویات اور طبی خام مال، زرعی مصنوعات اور کھاد، انرجی انڈسٹری کیلئے امپورٹ ہونے والےآلات، کچھ خاص معدنیات اور دھاتیں شامل ہیں۔
علاقائی معاہدے گلوبل ٹیرف سے مستثنیٰ
اس نئے گلوبل ٹیرف کا اطلاق امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے مابین موجود آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) پر نہیں ہوگا۔
‘سیکشن 301’ اور تازہ ترین کارروائی (جون 2026)
گلوبل ٹیرف کے علاوہ، امریکی تجارتی نمائندے (USTR) نے سیکشن 301 کے تحت ایک نئی تحقیقات کے بعد پاکستان، بھارت، کینیڈا، یورپی یونین اور میکسیکو سمیت 60 کے قریب ممالک پر مزید 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک اضافی ٹیرف لگانے کی تجویز دی ہے۔ یہ کارروائی ان ممالک میں جبری مزدوری (جبری مشقت / Forced Labor) سے بنے سامان کی روک تھام میں ناکامی کو جواز بنا کر کی جا رہی ہے۔
گلوبل ٹیرف کے عالمی معیشت اور مارکیٹوں پر اثرات
نئی تجارتی جنگ کا خطرہ
معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے امریکہ اور اس کے بڑے شراکت داروں (جیسے یورپی یونین، چین، اور بھارت) کے درمیان ایک باقاعدہ عالمی تجارتی جنگ (Trade War) کا آغاز ہو سکتا ہے۔ جن ملکوں کی پروڈکتس پر امریکہ میں گلوبل ٹیرف لگے گا وہ بھی جواب دیتے ہوئے اپنے ہاں امپورٹ ہونے والی امریکی پروڈکتس پر ایسا ہی ٹیرف نافذ کر سکتے ہیں۔
مہنگائی میں اضافہ
اس گلوبل ٹیرف کا پہلا براہِ راست بوجھ ان امریکی کنزیومرز اور ان کمپنیوں پر پڑے گا جو عالمی سپلائی چین پر انحصار کرتے ہیں، جس سے امریکہ میں امپورٹڈمصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔











