اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) میٹا کے اے آئی چیٹ بوٹ کی بڑی خامی سامنے آگئی، ہیکرز کا نیا ہتھیار بن گیا، انسٹا گرام صارفین کے اکاؤنٹس خطرے میں پڑگئے۔
میٹا کی جانب سے متعارف کرایا گیا اے آئی سپورٹ چیٹ بوٹ ہیکرز کے لیے انسٹاگرام اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے کا نیا ذریعہ بن گیا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ اس فیچر کی مدد سے متعدد اکاؤنٹس ہیک کیے گئے، حتیٰ کہ وہ اکاؤنٹس بھی محفوظ نہ رہ سکے جن پر ٹو فیکٹر authentication فعال تھی۔
رپورٹس کے مطابق دسمبر 2025 میں میٹا نے ایک اے آئی سپورٹ اسسٹنٹ متعارف کرایا تھا، جس کا مقصد فیس بک اور انسٹاگرام کے لاک اکاؤنٹس کی ریکوری کو تیز اور آسان بنانا تھا، تاہم اب یہی ٹول سائبر حملہ آوروں کے لیے خطرناک ہتھیار ثابت ہو رہا ہے۔
سکیورٹی محققین کے مطابق ہیکرز اے آئی چیٹ بوٹ کو اکاؤنٹ سے منسلک ای میل ایڈریس تبدیل کرنے کی ہدایت دیتے تھے، جس کے بعد پاس ورڈ ری سیٹ کرکے اکاؤنٹ پر قبضہ کر لیا جاتا تھا۔
میٹا اسمارٹ گلاسز سے نجی زندگی متاثر ہونے کا انکشاف، تحقیقات کا آغاز
اس طریقہ کار کی ویڈیوز، اسکرین شاٹس اور دیگر تفصیلات ٹیلیگرام گروپس میں بھی گردش کرتی رہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیکرز وی پی این کے ذریعے اپنی لوکیشن متاثرہ صارفین کی لوکیشن سے میچ کرتے تھے، جس کے باعث چیٹ بوٹ انہیں اصل اکاؤنٹ ہولڈر تصور کر لیتا تھا۔
میٹا کے ترجمان اینڈی اسٹون نے تصدیق کی ہے کہ اس خامی کو دور کر دیا گیا ہے اور متاثرہ اکاؤنٹس کی جانچ جاری ہے۔ تاہم کمپنی نے اس بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ اے آئی سسٹم میں اتنی بڑی سکیورٹی کمزوری کیسے پیدا ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق اس خامی پر مارچ 2026 سے ٹیلی گرام پر گفتگو جاری تھی، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متعدد ہائی پروفائل اکاؤنٹس بھی اس کا نشانہ بنے، جن میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کے وائٹ ہاؤس انسٹاگرام اکاؤنٹ کا نام بھی شامل ہے۔
سائبر سکیورٹی ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی سکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے مشکوک لاگ اِن سرگرمیوں پر نظر رکھیں، مضبوط پاس ورڈ استعمال کریں اور ریکوری معلومات کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرتے رہیں۔











