بدھ,  19  اگست 2026ء
ایران کا ٹرمپ
پیکاایکٹ صحافت کاقتل

دوحرف/رشید ملک

یقین جانیئے میرا جغرافیائی مطالعہ کوئی زیادہ قابل بھروسہ نہیں بلکہ سچ کہوں تو یہ میرے لیئے ایسے ہی ہے جیسے زیادہ مقدار میں بھنے ہوئے خشک چنے پھانکنے کے بعد انہیں ہلق سے نیچے اتارنا مشکل ہو اور تراوٹ کے بغیر جان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف کوئی مہم سر کرنے کا مشن مکمل ہو اس کیلئے پانی کے گھونٹ بطور ایمونیشن استعمال لائے جائیں ورنہ چنوں کی پھانس تو جان کو آجائے۔تو حضور میرے قارئین کرام آج خطے کی صورتحال کو نوضوع تحریر بنایا جا رہا ہے۔خطے کی صورتحال تو زیادہ مستحکم نہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ جغرافیائی مطالعہ میں یہ بات شدت سے صدیوں سے باور کرائی جاتی رہی کہ پاکستان، ایران، ہندوستان،افغانستان سمیت دیگر ممالک سعودی عرب ،قطر بحرین، متحدہ عرب امارات ،عراق ،یمن لبنان،اردن فلسطین، غزہ ،یرشلم یعنی اسرائیل ،ترکیہ جو خط ایشیا کے ساتھ خلیج فارس کی لہروں سے جڑے ہوئے ہیں کو دنیا کی اقوام عالم میں جغرافیائی برتری حاصل ہے۔اس کا ایک اندازہ حال ہی میں اسرائیل کے ایما پر خطے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحیت کے نتیجہ کے طور پر دیکھنے میں آیا۔ایران امریکہ اسرائیل جنگ کا ماحول کچھ اس طرح سے گرمایا جا رہا تھا کہ فلسطین میں صہونیت کی بربریت جب شعولہ جوالا بنی ہوئی تھی مہذب دنیا کے اقاوم متحدی کی چھتری کے نیچے مرتب کردہ بین الاقوامی قوانین کو طاقت کے نشے میں پامال کیا جا رہا تھا تو ایسے میں فلسطین کے بچوں کی سسک کر دم توڑتی لاشیں برہنہ اور بے لباس خواتین و دوشیزائیوں کی عصمتوں کو لوٹنے کے بعد انہیں سنگینوں اور گولیوں کا نشانہ بناکر قتل کیا جا ریا تھا، وہیں پیر و جواں بھی بے دریغ چھلنی کیئے کے بعد موت گھاٹ اتارے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ فلسطین میں دنیا کیلئے سفاکیت کی ایک نئی تاریخ رقم جا رہی تو وہیں دواؤں کو ترستے بچوں بوڑھوں اور مستورات کی آہ بکا عالم اسلام کا خصوصاََ اور اقوام عالم کا عموماً ضمیر جھنجھوڑ رہی تھیں۔ اگرچہ ان کی آہ و بکاہ پر ایران کے سوا کوئی کان دھرنے والا نہیں تھا، حقائق تو کم از کم یہی پتہ دیتے ہیں۔ پھر ایران نے بار بار اسرائیل کو انتباہ کرتے ہوئے فوری جارحیت روکنے کا کہا مگر اسرائیل طاقت میں کے نشے میں بد مست ہاتھی کی طرح عالمی قوانین سمیت ہر اخلاقی اقدار کو روندتا چلا جا رہا تھا۔ پھر ایران نے ایک قدم اگے بڑھایا تو اسرائیل نے ایران کے اندر آئی ٹی اطلاعات کے مرہون گھس کر فوجی و سول اعلی ترین شخصیات کو بمباری کرکے اڑادیا اور ایران کے روحانی پیشوا آئیت اللہ خامنائی کو بھی شہید کردیا۔ دوسری جانب امریکہ نے اسرائیل کے اقدامات کوتقویت دی اور اس کی مدد کیلئے خود کو براہ راست جنگ میں شامل کرلیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے تو اسرائیل کی کھلم کھلا حمایت کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ایران اب دنیا کے نقشے پر ہی نہیں رہےگا۔ ایران میں معصوم بچوں کے سکول پر خوفناک بم برسائے جس سے 582 سے زیادہ بچو کو لقمہ اجل بنے۔ دنیا چیختی چلاتی رہ گئی مگر کوئی کچھ نہ کر پایا۔ یہیں سے پانیوں کی اور آسمانوں کی جنگ نے ایک نیا اور اہم موڑ لیا۔ اہل قلم عقل و دانش،بڑے بڑے اذہان ایک ہی گردان کرتے دکھائی دیتے “او جی اب ایران نابود ہو جائے گا اس نے امریکہ سے پنگا لیا ہے۔ صاحبان یہیں عاقل و فاضل مار کھا گئے امریکہ پر تو ایران براہ راست جنگ کی چالیں نہ چل سکا البتہ اسرائیل پر ڈرون کی بارش کر دی جسے روکنے کیلئے اسرائیل اور امریکہ کی جدید ٹیکنالوجی کارگر ثابت نہ ہو سکی۔امریکی صدر اپنی حماقت پر بضد ہوتا چلا گیا اور اونگیوں بونگیوں پر مشتمل بیانات سے دنیا کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ مگر پہلی بار نیٹو ممالک سمیت امریکہ کے روائتی حلیف کھل کر ساتھ نہیں کھڑے ہوئے۔تباہ کن بمباری یعنی کارپیٹڈ بمبنگ کی گئی بغاوت بپا کرنے کیلئے ٹرمپ نے اور نیتن نے بھیانک سرمایہ کاری کی نتیجہ صفر رہا۔ ایران نے جوابی حکمت عملی کے تحت عجیب مگر موثر جنگی چال چلتے ہو آبنائے ہرمز پر فوجی حکمت عملی کے طور پر بحری مال برداری کا عمل مکمل مفلوج کردیا۔ اب ٹرمپ بھائی جان سیخ پا ہوکر ہم یہ کردیں گے ہم وہ کر دیں گےکی بڑھک بازی پر مرکوز ہوگئے۔ دنیا ہل کر رہ گئی ایران نے سب کو ششدر کردیا۔ دنیا کا معاشی توازن ہچکولے کھانے لگا۔ مذاکرات شروع کیئے گئے تیزی آئی لیکن ٹرمپ ٹیبل پر حقائق سے رو گردانی کرنے میں ناکام ہوگیا ایران میں وطن کی خاطر ڈیڑھ کروڑ شہریوں نے حکومت کے ساتھ مل کر جنگ کیلئے خوشی خوشی روحانی پیشوا کے ہاتھ پر بعیت کی جبکہ دوسری جانب امریکہ میں جنگ کے پیش نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مقبولیت تیزی سے کھونے لگے ان کی مقطولیت کا گراف 35 فیصد سے بھی نیچے گرگیا یہ اعداد و شمار برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے جاری کیئے ہیں ایران نے نہیں اس صورت حال نے ٹرمپ کو کافی حد تک ذہنی دباؤ کا شکار کر دیا ہے وہ ہر دوسرے شخص سے بد زبانی کا رویہ اختیار کر رہے ہیں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کافی دباؤ کا شکار ہیں اور اس صورت حال سے بہت زیادہ پریشان ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں ایک بین الاقوامی چینل کی رپورٹر کے سوال پر شدید اضطرابی کیفیت میں سوال کرنے والی صحافی خاتون پر غیر اخلاقی انداز میں شدید تنقید کی۔ امریکی تاریخ میں ایسا پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔

تو قارئین محترم یہ ہے ایران کا ڈونلڈ ٹرمپ۔

مزید خبریں