منگل,  18  اگست 2026ء
ڈاکٹروں نے ایک مریض کے مثانے سے 3.1 کلو گرام وزنی پتھری نکال لی

کولمبو(روشن پاکستان نیوز) سری لنکا میں ڈاکٹروں نے ایک شخص کے مثانے سے 3 کلو گرام سے زائد وزن کی پتھری نکالی ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔

سری لنکا کے علاقے ترینکومالی کے ایک اسپتال میں یہ آپریشن گزشتہ ہفتے ہوا۔

ترینکومالی جنرل ہاسپٹل میں 55 سالہ مریض کو فالج کے دورے کے بعد لایا گیا تھا۔

مگر فالج کے علاج کے دوران ڈاکٹروں نے مثانے کی نالی میں پتھری کو اس وقت دریافت کیا جب مریض کو پیشاب کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوا۔

سرجری کے دوران ڈاکٹروں نے اس پتھری کو مثانے سے نکالا جس کا حجم کسی شتر مرغ کے انڈے کے برابر تھا۔

ڈاکٹروں کی ٹیم کی قیادت کرنے والے ڈاکٹر Prahalahan Balakrishnan نے کہا کہ دستیاب ریکارڈز کے مطابق یہ اب تک کسی آپریشن کے دوران مثانے سے نکالی جانے والی سب سے بڑی پتھری ہے۔

ہارٹ اٹیک و فالج سمیت امراض قلب کا خطرہ بڑھانے والی اہم وجہ دریافت

انہوں نے کہا کہ مریض کی صحت اب کافی بہتر ہے۔

مریض ابھی تک اسپتال میں زیرعلاج ہے اور دیگر طبی مسائل کا علاج کرا رہا ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق مریض کے مثانے میں یہ پتھری 5 سے 10 سال سے موجود تھی۔

مثانے میں پتھری اس وقت بنتی ہے جب پیشاب میں موجود منرلز قلمی شکل میں جمنے لگتی ہیں اور بتدریج ٹھوس شکل اختیار کرلیتی ہیں۔

ایسا اس وقت ہوتا ہے جب مثانے کو مکمل طور پر خالی نہیں کیا جاتا اور پیشاب کرسٹل کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

عام طور پر نمک کے دانے کے حجم کی پتھری خود ہی پیشاب کے ذریعے خارج ہو جاتی ہے مگر جب پتھری کا حجم ایک سینٹی میٹر سے زائد ہو جائے تو پیشاب کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے اور طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔

4 سینٹی میٹر سے زائد بڑی پتھری کو بڑا قرار دیا جاتا ہے۔

گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق اب تک مثانے سے نکلنے والی سب سے بڑی پتھری 2003 میں برازیل کے ایک مریض کے جسم سے نکالی گئی تھی جس کا وزن 1.9 کلو گرام تھا جبکہ اس کی لمبائی 17.9 سینٹی میٹر تھی۔

سری لنکا کے اسپتال میں نکالی جانے والی پتھری کی لمبائی 17 سینٹی میٹر تھی۔

مزید خبریں