پیر,  13 جولائی 2026ء
بچے ، مٹی اور موبائل فون کی دنیا !
میں اور میرا دوست

آج پارک میں بچوں کو مٹی کے ساتھ کھیلتے دیکھا تو نہ جانے کیوں اپنا بچپن یاد آ گیا۔ وہ بچپن، جب مٹی صرف زمین نہیں ہوتی تھی بلکہ ہماری دنیا ہوتی تھی۔ اسی مٹی سے گھر بنتے تھے، راستے بنتے تھے، کھانے پکائے جاتے تھے، قلعے تعمیر ہوتے تھے اور پھر خود ہی مسکرا کر گرا بھی دیے جاتے تھے۔

پارک میں بچوں کے کھیلنے کے لیے مٹی کا ایک حصہ بنا ہوا تھا۔ میری تین سالہ بیٹی نے بڑی معصومیت سے خواہش ظاہر کی کہ وہ بھی مٹی میں کھیلنا چاہتی ہے۔ میں نے فوراً اجازت دے دی۔ مگر چند لمحوں بعد وہ واپس آئی اور بولی:
“بابا! میرے ، لیکن میرے کپڑے گندے ہو جائیں گے۔”
اس کی یہ بات سن کر حیرت ہوئی کہ آج کے بچے کتنی کم عمری میں صفائی، کپڑوں اور چیزوں کا خیال رکھنے لگے ہیں۔ ہم تو ان کی عمر میں شاید یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ ہمارے لیے تو مٹی میں لت پت ہونا ہی بچپن کی سب سے بڑی خوشی ہوا کرتی تھی۔
میں نے اسے پیار سے کہا:
“بیٹا! دل کھول کر کھیلو، کپڑوں کی فکر مت کرو۔ کپڑے دوبارہ دھل جائیں گے، لیکن بچپن دوبارہ نہیں آئے گا۔”
بس پھر کیا تھا۔ وہ خوشی خوشی مٹی میں جا بیٹھی۔ اس کے ساتھ اس کے کزنز بھی آ گئے، اور دیکھتے ہی دیکھتے سب بچے مٹی کے ساتھ اپنی ایک نئی دنیا بسانے لگے۔
ادھر ہم بڑے درخت کے سائے میں چٹائی بچھا کر اپنی باتوں میں مصروف تھے۔ اچانک میری نظر بچوں پر پڑی تو میں حیران رہ گیا۔ سب بچے اس قدر انہماک سے مٹی میں کھیل رہے تھے کہ جیسے آس پاس کی دنیا کا انہیں کوئی احساس ہی نہ ہو۔ نہ کوئی شور، نہ آپس میں بحث، نہ کسی کھلونے پر جھگڑا۔ حتیٰ کہ کزنز بھی ایک دوسرے سے بات نہیں کر رہے تھے۔ ہر بچہ اپنی ہی دنیا میں گم تھا، جیسے وہ مٹی سے باتیں کر رہا ہو،

اور مٹی خاموشی سے اس کی ہر بات سن رہی ہو۔

اسی لمحے میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ شاید مٹی انسان کی پہلی استاد ہے۔

اسی مٹی سے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو پیدا فرمایا، اسی مٹی پر انسان چلتا ہے، اسی سے رزق اگتا ہے، اور آخرکار اسی مٹی میں واپس لوٹ جاتا ہے۔ شاید اسی لیے بچے مٹی سے ایک فطری انسیت رکھتے ہیں،

کیونکہ فطرت ہمیشہ انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ نرم مٹی، ٹھنڈی ہوا، بارش کی خوشبو، سبز درخت اور کھلا آسمان بچوں کے لیے وہ دنیا ہیں جہاں وہ صرف کھیلتے نہیں بلکہ اپنی زندگی کی خوبصورت یادیں بھی بناتے ہیں۔ یہی قدرتی ماحول ان کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
افسوس
کہ آج موبائل فون، ٹیبلٹ اور ویڈیو گیمز نے بچوں کا بچپن محدود کر دیا ہے۔ اسکرین کے سامنے گھنٹوں گزارنے سے نہ صرف آنکھیں متاثر ہوتی ہیں بلکہ تخلیقی صلاحیت، جسمانی سرگرمی اور سماجی میل جول بھی کم ہو جاتا ہے۔
آج موبائل فون کی دنیا نے بچوں کا بچپن محدود کر دیا ہے
آئیں اپنے بچوں کو دوبارہ مٹی، بارش، درختوں اور فطرت سے جوڑیں تاکہ وہ ایک صحت مند، خوشحال اور یادگار بچپن گزار سکیں۔

آج میری بیٹی نے مجھے صرف یہ نہیں سکھایا کہ مٹی میں کھیلنا خوشی دیتا ہے،

بلکہ یہ بھی یاد دلایا کہ بچپن کو صاف کپڑوں کی نہیں، آزاد لمحوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

کاش! ہم اپنے بچوں کو کبھی کبھی مٹی میں کھیلنے دیں، بارش میں بھیگنے دیں، گھاس پر دوڑنے دیں اور فطرت سے محبت کرنے دیں، کیونکہ یہی لمحے کل ان کی زندگی کی سب سے خوبصورت یادیں بنیں گے۔
بچپن مٹی سے شروع ہوتا ہے، اور خوبصورت یادوں میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔

مزید خبریں