سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
میں ٹھیک نہیں ہوں/کیا آپ ایسا کہ سکتے ہیں؟
میں چاہتا ہوں کہ
اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ کیسے ہو ؟کیا ہو رہا ہے، کیسی چل رہی ہے زندگی؟
تو آپ کبھی کسی سے بلا ججھک یہ کہہ سکیں کہ بھائی میں ٹھیک نہیں ہوں۔
مالی حالات خراب ہیں،
ازواجی زندگی خوشگوار نہیں۔
لیکن آپ ایسا کبھی کسی سے نہیں بولتے اور ویسے بھی آپ کو تو یہ مذہب نے سمجھا رکھا ہے کہ اگر کوئی آپ کا حال پوچھے تو آپ نے کہنا ہے کہ
(اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس حال میں رکھے )
جبکہ اس کے برعکس آپ کے پاس گھر کا کرایہ دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں،
بچے پرائیویٹ سکول میں تعلیم حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ آپ کے پاس گنجائش نہیں،
آپ کی ماں ڈائلیسس کا علاج کروا رہی ہیں، آپ کی بیوی یا کوئی بچہ بیمار ہے یا خدانخواستہ کینسر سے جنگ لڑ رہا ہے
لیکن آپ پھر بھی ہر کسی کو جوابا یہی کہیں گے کہ
( اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس حال میں رکھے اس کی مرضی)
جبکہ آپ دل سے خود کشی کرنے پر آمادہ ہیں۔
مجھے تو یہ جملہ کہ( اس کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس حال میں رکھے اس کی مرضی)
اس میں بھی شکایت اور مایوسی نظر آتی ہے کیونکہ آپ نے ساتھ جو( جس حال میں رکھے اس کی مرضی) لگا دیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس کی مرضی سے خوش نہیں ہیں ،بس مجبورا یہ کہہ رہے ہیں اور آپ اندر سے خوفزدہ ہیں کہ اگر آپ نے یہ جملہ نہ بولا تو آپ پر اور تکلیفیں نازل ہو سکتی ہیں
ہم مردوں کی زندگی کا بڑا المیہ یہ نہیں ہے کہ ہم لوگوں کے دوست نہیں ہیں بلکہ ہمارے تو بہت دوست ہیں ،ہم ان کے ساتھ روزانہ اٹھتے بیٹھتے ہیں ،کھاتے پیتے ہیں ، اپنی برتری اور رعب کے مصنوعی قصے سناتے ہیں۔
انہیں مختلف طریقوں سے امپریس کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے دوستوں سے اپنے دل کی بات نہیں کر سکتے، ہم ان کے ساتھ ڈرامہ کرتے ہیں۔
جب آپ کی زندگی سچ میں تکلیف میں آ چکی ہو تو آپ کسی کو فون نہیں کر پاتے ،
اگر آپ سماجی، مالی اور ازدواجی طور پر ناکام ہو چکے ہیں تو آپ کے پاس کوئی ایسا دوست نہیں ہے جس سے آپ ایکٹنگ کیے بغیر یہ کہہ سکیں کہ میں مشکل میں ہوں ،پریشان ہوں! ڈپریشن میں ہوں۔
ہم سب کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی حوالے سے تکلیف میں ہیں اور چومکھی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن ہم کہتے ہیں
(خیر میں تو ٹھیک ہوں )کیونکہ ہم بہت زیادہ سٹرانگ بننے کی ایکٹنگ کرتے ہیں اور پھر ایک دن اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں ۔
اگر آپ کے حالات بھی ایسے ہی ہیں تو فکر نہ کریں، مایوس نہ ہوں کیونکہ انہی حالات کو ہم سب سہ رہے ہیں،
ساری دنیا ایسے ہی جی رہی ہے اور ویسے بھی جب ہم کسی سے اپنی مشکل یا پریشانی کا اظہار کر ہی دیتے ہیں تو فورا ہمیں مشورے دیے جاتے ہیں ،
کہا جاتا ہے کہ پریشان نہ ہو، اللہ سب ٹھیک کرے گا
یا پھر کہیں گے چل یار موڈ آف نہ کر ،
چل مووی دیکھتے ہیں،
چل کہیں کھانا کھاتے ہیں
اور اگر بہت ہی ایڈوانس قسم کی فرینڈ شپ ہے تو پھر آپ کو بیئر پینے کی بھی دعوت دی جاتی ہے۔
یہ باتیں سننے میں اچھی لگتی ہیں لیکن یہ ہمارے مسائل، مصیبتوں! پریشانیوں کا حل نہیں ہوتیں بس تھوڑی دیر کے لیے ہم اپنی اس ٹینشن سے نکل جاتے ہیں۔
ہم سب لوگ اپنے دوستوں کی پسندیدہ ٹیم کے بارے میں تو جانتے ہیں،
ان کے فیورٹ کھلاڑیوں کو بھی جانتے ہیں،
ان کو کون سا فوڈ زیادہ پسند ہے وہ بھی ہمیں معلوم ہے
لیکن ہمارے دوست کے اندر جو کشمکش اور جو ٹوٹ پھوٹ ہو رہی ہے اس سے ہم یکسر غافل ہیں۔
انہی حالات کے سبب پھر ایک دن ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جو ہمارا دوست ہے اسے بزنس میں لاکھوں روپے کا نقصان ہو گیا اور اسے ہارٹ اٹیک ہوا ہے ۔
ایک دن ہم جان پاتے ہیں کہ اس کی شادی ٹوٹ گئی، وہ تو کئی دہائیوں سے اپنی ازدواجی زندگی کی خوشگواریت کے لیے لڑ رہا تھا۔
وہ ڈپریشن اور انگزائٹی سے جنگ کر رہا تھا
یا پھر ایک دن ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہمارے کسی دوست نے خود کشی کر لی کیونکہ اس کا اپنے بہن بھائیوں سے جائیداد کا جھگڑا تھا۔
پھر ہم ہی لوگ ایک دم بول اٹھیں گے،
( او ہو اس نے ہمیں بتایا ھی نہیں )
تو بھائیو اس نے ہمیں اس لیے نہیں بتایا کہ ہم نے کبھی ایسے حالات ہی پیدا نہیں کیے کہ ہم سے ہمارا دوست اپنی مشکل گھڑی کے حوالے سے بات کر سکے۔
ہم کسی کی مالی مدد کیے بغیر صرف اس کو سن کر بھی اس کی مدد کر سکتے ہیں ۔
آپ لوگوں کے اکثر دوست ایسے ہیں جو صرف یہی چاہتے ہیں کہ انہیں سنا جائے،
کسی کی تکلیف ،دکھ !پریشانی کو سن لیا جائے تب بھی اس کا غم ہلکا ہو جایا کرتا ہے
لیکن نہ جانے ہم اور کتنی دہائیاں، کتنی صدیاں انتظار کریں گے جب ہم ایک ایسے اعلی اخلاقی مقام پر ہوں گے کہ ہم دوسرے کی تکلیف، اس کا دکھ، غم ،اس کے چہرے سے بھانپ لیا کریں گے اور پھر اس کی مدد کرنے کو بھی دستیاب ہوں گے۔
کہا جاتا ہے کہ ڈوبتے کو بچاتے وقت، اسے سوئمنگ نہیں سکھانی چاہیے
اور اگر کوئی مشکل میں آ جائے تو پھر اسے اس وقت، گیان نہیں بانٹتے۔
میں تو یہی کہہ سکتا ہوں کہ
ساتھی ہاتھ بڑھانا
ساتھی ہاتھ بڑھانا
ایک اکیلا تھک جائے گا
مل کر بوجھ اٹھانا
ساتھی ہاتھ بڑھانا











