محرم کا جلوس!
میں اور میرا دوست

چند روز پہلے مانچسٹر ولمزلو روڈ پر نکلنے والے محرم کے جلوس کو لیکر میری اور میرے دوست کی بات چیت کچھ یوں ہوئی۔

یہ وہی جلوس ہے جس کی ویڈیو دنیا کے امیر ترین فرد ایلون مسک” نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیوٹر ایکس پر شیئر” کی۔

میں نے دوست سے کہا

اس سے پہلے بھی یہ ویڈیو یورپی ملک سوئٹزرلینڈ کے ریڈیو جنیوا نے ان جملوں کیساتھ highlight کی گئی “یقین نہیں آتا کہ مانچسٹر کا یہ حال ہو گیا ہے۔”
اور یورپ کے مختلف ممالک کی پارلیمنٹ میں بھی آواز بلند کی جا رہی ہیں۔

اور کچھ عرصہ قبل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے مسلمانوں اور بالخصوص مئیرآف لندن صادق خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

صادق خان لندن میں شریعہ نافذ کرنا چاہتے ہیں۔

میرا دوست بولا، “دیکھا؟ یورپ اور امریکہ میں لوگ اسے کس نظر سے دیکھ رہے ہیں۔”

میں نے کہا، “میں تو اسے ایک اور زاویے سے دیکھتا ہوں۔ یہ برطانیہ ہے، ایک جمہوری ملک، جہاں ہر شہری کو اپنے مذہب، ثقافت اور عقیدے کے اظہار کا مکمل حق حاصل ہے۔ اگر کوئی کرسمس پریڈ نکال سکتا ہے، سکھ برادری نگر کیرتن کر سکتی ہے، ہندو دیوالی منا سکتے ہیں تو مسلمان بھی اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق، ربیع الاول، جشن آزادی اور محرم کے جلوس نکالنے کا حق رکھتے ہیں۔”

میرا دوست خاموش ہو گیا، پھر بولا، “میں آزادیِ اظہار کے خلاف نہیں ہوں۔ مجھے جلوس سے بھی مسئلہ نہیں۔ مسئلہ اس تاثر سے ہے جو یورپ میں پیدا ہو رہا ہے۔”

میں نے پوچھا، “کیسا تاثر؟”

اس نے جواب دیا، “یہی کہ مسلمان یورپ پر قبضہ کر رہے ہیں، اپنی ثقافت دوسروں پر مسلط کر رہے ہیں اور آہستہ آہستہ یورپی شناخت کو بدل رہے ہیں۔”

میں نے محسوس کیا کہ اس کی بات مکمل طور پر بے بنیاد بھی نہیں تھی۔ آج یورپ میں دائیں بازو کی سیاست اسی بیانیے پر پروان چڑھ رہی ہے۔ جب مانچسٹر کے جلوس کی ویڈیو شیئر کرتے ہیں یا جب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ لندن میں شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں، تو یہ بیانات صرف سیاسی جملے نہیں رہتے بلکہ لاکھوں لوگوں کے ذہنوں میں ایک خاص تصور پیدا کرتے ہیں۔

میرا دوست بولا، “مسئلہ یہ ہے کہ انتہا پسند عناصر انہی تصاویر اور ویڈیوز کو استعمال کر کے لوگوں میں خوف پیدا کرتے ہیں۔”

میں نے جواب دیا، “لیکن کیا اس خوف کی وجہ سے مسلمانوں کو اپنے بنیادی حقوق سے دستبردار ہو جانا چاہیے؟”

اگر آج کوئی مسلمان محرم کا جلوس نکالتا ہے، عاشورہ کی مجلس منعقد کرتا ہے یا اپنی مذہبی شناخت کا اظہار کرتا ہے تو یہ برطانوی قانون کے دائرے میں ایک جائز اور آئینی حق ہے۔ آزادیِ اظہار اور مذہبی آزادی صرف
اکثریت کے لیے نہیں بلکہ ہر اقلیت کے لیے بھی ہوتی ہے۔

میرے دوست نے کہا۔
اصل مسئلہ جلوس نہیں بلکہ اس کی تعبیر ہے۔

ایک طبقہ اسے مذہبی آزادی کی علامت سمجھتا ہے جبکہ دوسرا اسے یورپ کی بدلتی ہوئی شناخت کی نشانی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔

میں نے اپنے دوست سے کہا، “امام حسینؑ کا پیغام ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا پیغام ہے۔ اگر ہم اس پیغام کو امن، انصاف، انسانی حقوق اور مذہبی رواداری کے ساتھ پیش کریں تو دنیا اسے زیادہ بہتر انداز میں سمجھے گی۔”

اس نے کہا، “میں بھی یہی چاہتا ہوں۔ جلوس نکالو، مذہبی آزادی کا استعمال کرو، اپنے عقیدے پر عمل کرو، لیکن
ایک دہشت کی علامت نہ بنو!
ماتم کرتے روڈ پر نہ جاو۔۔
جشن آزادی کے باجے نہ بجاو
عید میلاد کے نعرے اسپیکروں میں نہ پڑھو
بلکہ یہ سب کرو لیکن روڈ پر کھلے عام نہیں۔
مسجدوں میں اسپیکر پر نعتیں پڑھو یا نعرے لگاو۔
امام بارگاہ میں ماتم کرو یا زنجیر زنی۔
لیکن
یوں روڈ پر بڑی تعداد بنا کر آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟؟
اگر آپ ایک اچھے شہری ہو تو
دنیا کو یہ بتاؤ کہ تم یہاں کے قانون، جمہوریت اور کثیر الثقافتی معاشرے کا احترام کرتے ہو۔”

مجھے میرے دوست کی باتوں نے جکھڑ لیا مجھے لگا یہ ٹھیک کہتا ہے۔

شاید یہی وہ توازن ہے جس کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

کربلا ہمیں صرف ظلم کے خلاف کھڑا ہونا نہیں سکھاتی بلکہ انصاف، حکمت اور ذمہ داری بھی سکھاتی ہے۔ برطانیہ اور یورپ میں رہنے والے مسلمانوں کو اپنے مذہبی حقوق پر فخر ہونا چاہیے، لیکن ساتھ ہی انہیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ان کے ہر عمل کو ایک وسیع سماجی اور سیاسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نہ اپنے حقوق سے دستبردار ہوں

اور نہ ہی دوسروں کے خدشات کو مکمل طور پر نظر انداز کریں۔

کیونکہ اگر مذہبی آزادی جمہوریت کی روح ہے تو معاشرتی ہم آہنگی اس جمہوریت کا حسن بھی ہے۔

مزید خبریں