جمعرات,  25 جون 2026ء
کیا آپ کا پاس ورڈ واقعی محفوظ ہے؟ ماہرین نے خبردار کر دیا

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) کمزور پاس ورڈ سائبر جرائم پیشہ افراد کے لیے آسان ہدف ہوتا ہے، آن لائن اکاؤنٹس کے ہیک ہونے کی سب سے بڑی وجوہات میں کمزور اور آسان پاس ورڈ شامل ہیں۔

ڈیجیٹل دور میں جہاں ہماری ذاتی معلومات، بینکنگ تفصیلات اور اہم دستاویزات آن لائن محفوظ ہوتی ہیں، وہیں سائبر جرائم کی شرح میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق بہت سے لوگ سہولت کی خاطر مختصر یا آسان پاس ورڈ استعمال کرتے ہیں جبکہ بعض صارفین اپنے تمام اکاؤنٹس کے لیے ایک ہی پاس ورڈ منتخب کر لیتے ہیں، یہ عادت سائبر حملہ آوروں کے لیے صارفین کی معلومات تک رسائی آسان بنا سکتی ہے۔

مضبوط پاس ورڈ کیوں ضروری ہے؟

سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ہیکنگ ٹیکنالوجی اور پاس ورڈ کریکنگ سافٹ ویئر پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں۔ ایسے پروگرام چند لمحوں میں لاکھوں بلکہ اربوں ممکنہ پاس ورڈز آزما سکتے ہیں، جس کی وجہ سے مختصر اور عام پاس ورڈز اب زیادہ محفوظ نہیں رہے۔ ماہرین کے مطابق پاس ورڈ جتنا طویل اور منفرد ہوگا، اسے توڑنا اتنا ہی مشکل ہوگا۔

پاس ورڈ کے کم ازکم الفاظ کتنے ہونے چاہئیں؟

ڈیجیٹل سیکیورٹی کے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ صارفین کم از کم 13 سے 20 حروف پر مشتمل پاس ورڈ استعمال کریں۔ طویل پاس ورڈز کو کریک کرنے میں زیادہ وقت اور کمپیوٹنگ طاقت درکار ہوتی ہے، جس سے اکاؤنٹ کے محفوظ رہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ایک مضبوط پاس ورڈ کی خصوصیات

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق مؤثر پاس ورڈ میں درج ذیل عناصر شامل ہونے چاہئیں، بڑے اور چھوٹے انگریزی حروف اعداد یا خصوصی علامات جیسے @، #، !، % وغیرہ، عام الفاظ اور ذاتی معلومات سے گریز کریں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی صارف سادہ پاس ورڈ استعمال کرتا ہے تو اسے مختلف حروف، اعداد اور علامات شامل کرکے زیادہ محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔

پاس ورڈ یاد رکھنے کے لیے منفرد طریقہ

ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ صارفین کسی پسندیدہ شعر، گانے، محاورے یا جملے کے ابتدائی حروف کو ملا کر منفرد پاس ورڈ تشکیل دے سکتے ہی، اس طریقے سے پاس ورڈ نہ صرف مضبوط ہوتا ہے بلکہ یاد رکھنا بھی نسبتاً آسان رہتا ہے۔

ہر اکاؤنٹ کے لیے الگ پاس ورڈ استعمال کریں

سائبر سیکیورٹی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مختلف ویب سائٹس اور ایپس کے لیے ایک ہی پاس ورڈ استعمال کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر کسی ایک سروس کا ڈیٹا لیک ہو جائے تو ہیکرز اسی پاس ورڈ کے ذریعے آپ کے دیگر اکاؤنٹس تک بھی رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان قرض معاہدے پر دستخط

اسی لیے ہر اہم اکاؤنٹ، خصوصاً ای میل، سوشل میڈیا اور آن لائن بینکنگ کے لیے الگ اور منفرد پاس ورڈ استعمال کرنا ضروری ہے۔

اضافی تحفظ کے لیے کیا کریں؟

ماہرین کے مطابق صرف مضبوط پاس ورڈ ہی کافی نہیں، بلکہ دو مرحلہ جاتی تصدیق کا استعمال بھی اکاؤنٹس کو مزید محفوظ بناتا ہے۔ اس کے علاوہ معتبر پاس ورڈ مینیجرز کی مدد سے پیچیدہ اور منفرد پاس ورڈز محفوظ طریقے سے رکھے جا سکتے ہیں۔

آن لائن دنیا میں اپنی معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط، طویل اور منفرد پاس ورڈ کا استعمال وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ چند احتیاطی تدابیر اختیار کرکے صارفین سائبر حملوں اور ڈیٹا چوری کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کر سکتے ہیں۔

مزید خبریں