تحریر / ندیم طاہر
آج شام کے وقت میں اور میرا دوست بڑی دیر ایک ہی خبر پر گفتگو کرتے رہے۔ بظاہر یہ ایک سفارتی دورے کی خبر تھی، مگر اس کے اندر جو پیغام چھپا ہوا تھا، وہ عام خبروں جیسا نہیں تھا۔
ہمارے لہجوں میں حیرت بھی تھی، فخر بھی تھا، اور کہیں نہ کہیں ایک انجانا سا خوف بھی۔
جب خبر آئی کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جنگی وردی میں تہران پہنچے ہیں اور ایرانی وزیر خارجہ نے خود ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا ہے،
تو میرے دوست نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا:
“یہ صرف ایک دورہ نہیں… یہ ایک پیغام ہے۔”
میں نے اس کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں محسوس کیا کہ واقعی، کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو محض سفارتی سرگرمی نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے موڑ بن جاتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب ایک ملک دباؤ، خطرات اور غیر یقینی صورتحال کے بوجھ تلے ہو،
وہاں کسی فوجی سربراہ کا جانا معمولی واقعہ نہیں ہوتا۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب الفاظ کم اور کردار زیادہ بولتے ہیں۔
میرے ذہن میں تاریخ کے کچھ اور مناظر ابھرنے لگے۔ وہ لمحات جب لیڈروں نے خطرے کے باوجود ایسے فیصلے کیے جو بعد میں تاریخ کا حصہ بن گئے۔
مجھے دوسری عالمی جنگ کا ایک واقعہ یاد آیا۔ 1943 کا سال، جب دنیا آگ میں جل رہی تھی اور یورپ میدان جنگ بنا ہوا تھا۔ اس وقت برطانیہ کے وزیراعظم ونسٹن چرچل نے خطرہ مول لے کر ماسکو کا سفر کیا تھا۔
جرمن فضائیہ کے حملوں کا خطرہ ہر لمحہ موجود تھا، مگر وہ گئے کیونکہ بعض پیغامات صرف خطوں اور ٹیلی فون کالز سے نہیں پہنچتے۔ بعض باتیں آمنے سامنے بیٹھ کر ہی کہی جا سکتی ہیں۔
اسی طرح 2018 کا وہ منظر بھی یاد آیا جب جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے پیدل چل کر شمالی کوریا کی سرحد عبور کی تھی۔ وہ لمحہ دنیا بھر میں نشر ہوا تھا۔
دونوں ممالک دہائیوں سے دشمنی کی فضا میں سانس لے رہے تھے، مگر ایک قدم نے امید کی ایک نئی راہ دکھائی تھی۔
ایک تصویر نے دنیا کو یہ پیغام دیا تھا کہ اگر ارادہ ہو تو برف پگھل سکتی ہے۔
آج میں اور میرا دوست یہی مثالیں یاد کر رہے تھے تو اس نے ایک جملہ کہا جو میرے دل میں اتر گیا:
“اصل جرات صرف میدان جنگ میں نہیں دکھائی جاتی، اصل جرات کبھی کبھی امن کی طرف قدم بڑھانے میں ہوتی ہے۔”
میں نے اس کی بات پر سر ہلایا کیونکہ واقعی، بعض اوقات ایک لیڈر کی موجودگی خود ایک پیغام بن جاتی ہے۔ اس موقع پر جنگی وردی کا انتخاب بھی محض اتفاق نہیں لگتا۔ وردی ایک علامت ہوتی ہے عزم کی، تیاری کی، اور اس بات کی کہ حالات کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
ایسے ماحول میں جب ہر قدم خطرے سے خالی نہ ہو، جب ہر ملاقات خود ایک چیلنج بن سکتی ہو، وہاں کسی کا جانا صرف ایک رسمی ملاقات نہیں رہتا بلکہ اعتماد کا اظہار بن جاتا ہے۔ اعتماد، جو سفارتکاری کی سب سے قیمتی کرنسی ہوتا ہے۔
میرے دوست نے ایک اور بات کہی جو مجھے سوچنے پر مجبور کر گئی:
“دنیا کی سیاست میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب ایک ملک کو صرف اپنے مفادات نہیں، بلکہ پورے خطے کے مستقبل کو دیکھ کر فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔”
اس جملے نے مجھے دیر تک سوچنے پر مجبور کیے رکھا۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ جب حالات کشیدہ ہوں، جب فضاؤں میں بے یقینی ہو، تو ہر قدم کا اثر صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے خطے کو متاثر کرتا ہے۔
ہم دونوں نے اس خبر کو صرف ایک واقعہ کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ ایک علامت کے طور پر دیکھا۔ ایک علامت کہ دنیا میں اب بھی ایسے لمحے آتے ہیں جب خطرات کے باوجود رابطے کے دروازے بند نہیں کیے جاتے۔ جب بات چیت کے امکانات ختم نہیں ہونے دیے جاتے۔
مجھے اس دوران بار بار یہ خیال بھی آ رہا تھا کہ سفارتکاری محض بیانات اور ملاقاتوں کا نام نہیں، بلکہ اعتماد کی تعمیر کا نام ہے۔ اور اعتماد ہمیشہ الفاظ سے نہیں بنتا، بلکہ بعض اوقات قربت اور موجودگی سے بنتا ہے۔
کافی دیر ہوچکی تھی مگر ہماری گفتگو ختم نہیں ہو رہی تھی۔ ہم دونوں کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا کہ کیا یہ لمحہ واقعی کسی بڑے مثبت نتیجے کی طرف لے جائے گا؟
کیا یہ قدم خطے میں امن کی راہ ہموار کرے گا؟
یا یہ بھی تاریخ کے ان بے شمار واقعات میں شامل ہو جائے گا جو امید تو دیتے ہیں مگر انجام تک نہیں پہنچ پاتے؟
میرے دوست نے آہستہ سے کہا:
“اگر اس ایک قدم سے کشیدگی میں کمی آ جائے، اگر اس ایک ملاقات سے جنگ کے بادل ذرا سا بھی ہٹ جائیں، تو یہ لمحہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔”
میں نے اس کی طرف دیکھا اور دل میں ایک دعا ابھری۔ دعا یہ کہ اس خطے کے عام لوگ، جو ہر کشیدگی کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھاتے ہیں، وہ سکون کا سانس لے سکیں۔ دعا یہ کہ فیصلے طاقت کے اظہار کے بجائے دانش اور تدبر کے ساتھ کیے جائیں۔ اور دعا یہ کہ ہمارے خطے میں رہنے والے بچوں کو وہ دن دیکھنا نصیب ہو جب جنگ اور خوف ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ نہ ہوں۔
آج جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو میرے دل میں ایک عجیب سا احساس ہے کہ کچھ لمحات وقتی نہیں ہوتے۔ وہ لمحے نسلوں تک یاد رکھے جاتے ہیں۔ وہ لمحے تاریخ کے صفحات پر محض الفاظ نہیں بنتے بلکہ علامت بن جاتے ہیں۔
یہ بھی شاید ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔
آخر میں، میں اور میرا دوست ایک ہی بات پر متفق ہوئے تھے۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا:
“اصل کامیابی جنگ جیتنا نہیں، بلکہ جنگ کو روک دینا ہوتی ہے۔”
میں نے اس کی بات سن کر خاموشی سے آمین کہا۔
کیونکہ آخرکار، ہر قوم کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اس کے بچے امن میں جی سکیں، اس کے شہر محفوظ رہیں، اور اس کے فیصلے تاریخ میں امن کے باب کے طور پر یاد رکھے جائیں، نہ کہ تباہی کے طور پر۔
اور آج دل سے یہی دعا نکلتی ہے
اللہ کرے کہ ہمارے فیصلے ہمارے خطے کے لیے خیر اور امن کا سبب بنیں۔
آمین۔











