اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) محققین نے فرنچ فرائز کھانے کے شوقین لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے صحت کے ایک بڑے خطرے کی نشان دہی کر دی ہے۔
فرنچ فرائز کو طویل عرصے سے ایک غیر صحت بخش غذا سمجھا جاتا رہا ہے، اور نئی تحقیق سے اشارہ ملتا ہے کہ شاید وہ دیگر آلو سے بنی غذاؤں کے مقابلے میں واقعی اس شہرت کی زیادہ مستحق ہے۔
طبی ماہرین نے تحقیق کے بعد کہا ہے کہ ہفتے میں 3 مرتبہ فرنچ فرائز کھانے سے ذیابیطس کا خطرہ تقریباً 20 فی صد تک بڑھ جاتا ہے، جب کہ اسی مقدار میں ابلے ہوئے یا بھاپ میں پکائے ہوئے آلو کھانے سے کوئی نمایاں خطرہ سامنے نہیں آیا۔
طبی ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ آلو نہیں ہے، بلکہ اسے ڈیپ فرائی کے عمل سے گزارنا ہے، جس کے بعد یہ صحت کے لیے مضر ہو جاتا ہے، لیکن جسے ہم فرنچ فرائز کا نام دے کر نہایت شوق سے کھانے لگتے ہیں۔
تقریباً 40 سال تک 2 لاکھ پانچ ہزار سے زائد افراد کا مشاہدہ کرنے والی ایک بڑی تحقیق میں معلوم ہوا کہ ہفتے میں تین مرتبہ فرنچ فرائز کھانے کا تعلق ٹائپ 2 ذیابیطس ہونے کے خطرے میں بیس فی صد اضافے سے تھا، جب کہ بیک کیے گئے، اُبلے ہوئے یا میش کیے گئے آلوؤں کے استعمال سے خطرے میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں دیکھا گیا۔
تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ آلوؤں کی جگہ مکمل اناج استعمال کرنے سے ذیابیطس کا خطرہ کم ہو جاتا ہے، جب کہ ان کی جگہ سفید چاول استعمال کرنے سے اس کے برعکس خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
فرنچ فرائز پر تحقیق
طبی جریدے دی بی ایم جے (The BMJ) میں شائع ہونے والی ایک بڑی تحقیق میں معلوم ہوا کہ ہفتے میں فرنچ فرائز کی تین سرونگز کھانے کا تعلق ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے میں 20 فی صد اضافے سے ہے۔ اس کے برعکس، اتنی ہی مقدار میں آلو اگر اُبال کر، بیک کر کے یا مسل کر کھائے جائیں تو ان کا ذیابیطس کے خطرے میں کسی نمایاں اضافے سے تعلق نہیں پایا گیا۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی شخص کی خوراک میں آلو کی جگہ کون سی غذا لی جاتی ہے، یہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ آلو کی جگہ مکمل اناج استعمال کرنے کا تعلق ٹائپ 2 ذیابیطس کے کم خطرے سے تھا، جب کہ آلو کی جگہ سفید چاول کھانے کا تعلق زیادہ خطرے سے پایا گیا۔
کیا آلو نقصان دہ ہے؟
آلو کئی اہم غذائی اجزا فراہم کرتے ہیں، جن میں فائبر، وٹامن سی اور میگنیشیم شامل ہیں۔ تاہم، ان میں نشاستہ بھی زیادہ مقدار میں موجود ہوتا ہے اور ان کا گلیسیمک انڈیکس نسبتاً بلند ہوتا ہے، یعنی یہ خون میں شوگر کی سطح کو تیزی سے بڑھا سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے ماضی کی متعدد تحقیقات نے آلو کے استعمال کو ٹائپ 2 ذیابیطس کے زیادہ خطرے سے جوڑا ہے۔
تاہم محققین کے مطابق دو اہم عوامل کو اکثر نظر انداز کیا گیا ہے۔ پہلی بات یہ کہ آلو مختلف طریقوں سے تیار کیے جا سکتے ہیں، اور دوسری یہ کہ آلو کے صحت پر اثرات اس بات پر بھی منحصر ہو سکتے ہیں کہ لوگ ان کی جگہ کون سی غذائیں استعمال کرتے ہیں۔
ان سوالات کا جائزہ لینے کے لیے سائنس دانوں نے تحقیق کی کہ آیا فرنچ فرائز اور اُبلے، بیک کیے گئے یا مسلے ہوئے آلوؤں کے درمیان ذیابیطس کے خطرے میں فرق پایا جاتا ہے یا نہیں۔ انھوں نے یہ بھی جانچا کہ آلو کی جگہ دیگر عام کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور غذائیں، مثلاً مکمل اناج اور چاول، استعمال کرنے کے ممکنہ اثرات کیا ہیں۔
چار دہائیوں پر محیط صحت کا ڈیٹا
یہ تحقیق امریکا کے 205,000 سے زائد طبی شعبے سے وابستہ افراد کے اعداد و شمار پر مبنی تھی، جو 1984 سے 2021 کے درمیان ہونے والی تین بڑی طویل مدتی مطالعات میں شریک تھے۔ تحقیق کے آغاز پر شرکا کو نہ ذیابیطس، نہ دل کی بیماری اور نہ ہی کینسر لاحق تھا۔ ہر چار سال بعد انھوں نے اپنی خوراک سے متعلق تفصیلی سوال نامے مکمل کیے، جس سے محققین کو وقت کے ساتھ ان کی غذائی عادات کا جائزہ لینے میں مدد ملی۔
تقریباً 40 سال کی پیروی کے دوران 22,299 افراد ٹائپ 2 ذیابیطس کا شکار ہوئے۔ طرزِ زندگی اور دیگر غذائی عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد محققین نے پایا کہ مجموعی طور پر ہفتے میں آلو کی ہر تین سرونگز کا تعلق ٹائپ 2 ذیابیطس کی شرح میں 5 فی صد اضافے سے تھا۔
تاہم سب سے مضبوط تعلق فرنچ فرائز کے ساتھ دیکھا گیا۔ ہفتے میں فرنچ فرائز کی ہر تین سرونگز کا تعلق ٹائپ 2 ذیابیطس کی شرح میں 20 فی صد اضافے سے تھا۔ اس کے برعکس، اُبلے، بیک کیے گئے یا مسلے ہوئے آلوؤں کی اتنی ہی مقدار کا کسی شماریاتی طور پر نمایاں اضافے سے تعلق نہیں پایا گیا۔
مکمل اناج کے فوائد
محققین نے یہ بھی جانچا کہ آلو کی جگہ دوسری غذائیں استعمال کرنے سے کیا نتائج سامنے آتے ہیں۔
ہفتے میں آلو کی تین سرونگز کو مکمل اناج سے تبدیل کرنے کا تعلق ٹائپ 2 ذیابیطس کی شرح میں 8 فی صد کمی سے تھا۔ جب اُبلے، بیک کیے گئے یا مسلے ہوئے آلوؤں کی جگہ مکمل اناج استعمال کیا گیا تو شرح 4 فی صد کم تھی۔ جب کہ فرنچ فرائز کی جگہ مکمل اناج استعمال کرنے کا تعلق 19 فی صد کم شرح سے تھا۔
دوسری جانب، جب آلو کی جگہ سفید چاول استعمال کیے گئے تو نتائج مختلف تھے۔ مجموعی آلو کے استعمال یا اُبلے، بیک کیے گئے اور مسلے ہوئے آلوؤں کی جگہ سفید چاول لینے کا تعلق ٹائپ 2 ذیابیطس کی زیادہ شرح سے پایا گیا۔
اہم احتیاطی نکات
چوں کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق تھی، اس لیے یہ ثابت نہیں کرتی کہ فرنچ فرائز براہِ راست ذیابیطس کا سبب بنتے ہیں۔ محققین نے تسلیم کیا کہ تحقیق میں شامل نہ کیے گئے دیگر عوامل بھی نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، تحقیق کے شرکا کی اکثریت یورپی نسل سے تعلق رکھنے والے طبی پیشہ ور افراد پر مشتمل تھی، لہٰذا ممکن ہے کہ یہ نتائج تمام آبادیوں پر یکساں طور پر لاگو نہ ہوں۔
اس کے باوجود محققین نے لکھا ’’ہماری تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ آلو کے استعمال اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کے درمیان تعلق اس بات پر منحصر ہے کہ آلو کی جگہ کون سی غذا استعمال کی جاتی ہے۔ یہ نتائج موجودہ غذائی سفارشات کے مطابق ہیں جو ٹائپ 2 ذیابیطس کی روک تھام کے لیے صحت مند خوراک میں مکمل اناج کو شامل کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔‘‘
کیا آلو دوبارہ صحت مند غذا کا حصہ بن سکتے ہیں؟
تحقیق کے ساتھ شائع ہونے والے ایک اداریے میں محققین نے استدلال کیا کہ صحت پر اثرات کا جائزہ لیتے وقت آلوؤں کو ایک ہی قسم کی غذا سمجھنا درست نہیں۔ انھوں نے زور دیا کہ غذائی سفارشات اور عوامی پالیسی بناتے وقت آلو تیار کرنے کے طریقوں اور ان کے متبادل کے طور پر استعمال ہونے والی غذاؤں دونوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
اداریے کے مطابق، بیک کیے گئے، اُبلے ہوئے اور مسلے ہوئے آلو اپنی نسبتاً کم ماحولیاتی اثرات اور مجموعی غذائی افادیت کے باعث ایک صحت مند اور ماحول دوست غذا کا حصہ بن سکتے ہیں۔ تاہم مصنفین نے واضح کیا کہ ذیابیطس کے خطرے کو کم کرنے کے لیے مکمل اناج کو ترجیحی انتخاب ہی رہنا چاہیے۔
انھوں نے مزید متنوع آبادیوں پر مشتمل آئندہ تحقیقات کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ پکانے کے مختلف طریقوں اور غذائی متبادلات کے اثرات کا مزید تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔











