آر آئی یو جے کے قائم مقام صدر توصیف عباسی، جنرل سیکرٹری راجہ بشیر عثمانی، سیکرٹری فنانس اظہار خان نیازی اور مجلس عاملہ کے دیگر ارکان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی صحافتی صنعت پہلے ہی شدید معاشی بحران، سنسرشپ، اخبارات کی مسلسل گرتی ہوئی سرکولیشن، صحافیوں کی جبری برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں اخبارات کی مارکیٹ سیل کرنے سے نہ صرف اخبارات کی تقسیم اور ترسیل متاثر ہوتی ہے بلکہ عوام کے بروقت اور آزادانہ معلومات تک رسائی کے حق پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس اقدام سے اخباری صنعت، تقسیم کاروں، ہاکروں اور اس شعبے سے وابستہ دیگر افراد کا روزگار بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
آر آئی یو جے کے عہدیداران نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ اخبارات کی مارکیٹ فوری طور پر کھولی جائے، اخبارات کی بلا تعطل تقسیم یقینی بنائی جائے اور معاملے کو باہمی مشاورت اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آزادی صحافت، صحافیوں کے معاشی حقوق کا تحفظ اور عوام تک آزادانہ معلومات کی فراہمی ایک جمہوری معاشرے کی بنیادی ضروریات ہیں۔ میڈیا سے متعلق معاملات میں ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جو صحافتی سرگرمیوں اور عوام کے معلومات تک رسائی کے حق کو متاثر کریں۔
آر آئی یو جے نے مطالبہ کیا کہ اخبارات کی ترسیل میں حائل رکاوٹیں فوری دور کرکے معمول کی تقسیم بحال کی جائے تاکہ صحافتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں اور قارئین تک اخبارات کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔











