اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان دو روز سے جاری مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومتی اور اپوزیشن وفود کے درمیان مذاکرات کے بعد معاہدے کو تحریری شکل دینے کے لیے ڈرافٹنگ کا عمل جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز قومی اسمبلی کے اسپیکر چیمبر میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے روز حکومت اور اپوزیشن کے وفود نے مختلف معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
ذرائع کے مطابق بات چیت کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اب تحریری معاہدے کے ڈرافٹ پر غور کیا جارہا ہے۔ دونوں جانب سے معاہدے پر دستخط کے بعد مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا جب کہ حکومتی اور اپوزیشن وفود کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ پڑھ کر سنائے جانے کا بھی امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق مشترکہ اعلامیے کے بنیادی نکات میں کے پی حکومت کی جانب سے دہشت گردی پر وفاق کی پالیسی پرعمل درآمد، عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت اور تحریک انصاف کی جانب سے احتجاجی سیاست پر نظرثانی جیسے نکات شامل ہیں۔
اس سے قبل ذرائع نے بتایا تھا کہ مذاکرات کے دوران حکومتی وفد نے بات چیت کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے اپوزیشن سے مجوزہ لانگ مارچ کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ موجودہ صورت حال میں احتجاج کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
حکومتی اراکین نے اپوزیشن ٹیم کے اختیار اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے لانگ مارچ پر قائم رہنے سے متعلق حالیہ ٹویٹ پر بھی اعتراض کیا تھا۔ جواب میں راجا ناصر عباس نے اپوزیشن وفد کے مکمل طور پر بااختیار ہونے کے علاوہ معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے حکومت اعتماد کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔
حکومت کی جانب سے سہیل آفریدی کے ٹویٹ پر اعتراض کے جواب میں اپوزیشن وفد نے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے ٹویٹ کا بھی حوالہ دیا۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے مذاکرات کے دوران لانگ مارچ کا فیصلہ واپس لینے کے لیے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی شرط رکھی تھی۔ اپوزیشن وفد کا مؤقف تھا کہ لانگ مارچ کی منسوخی کا فیصلہ عمران خان سے ملاقات کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔
ہفتے کے روز ہونے والے مذاکرات میں ایک گھنٹے کی بات چیت کے بعد کچھ دیر کا وقفہ بھی ہوا تھا۔ اس دوران حکومتی اور اپوزیشن وفود نے اجلاس کے دوران ہونے والی پیش رفت سے اپنی اپنی قیادت کو آگاہ کیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور رانا ثناء اللہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے رابطہ کر کے انہیں مذاکرات میں اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا اور اپوزیشن کے مطالبات کی تفصیلات بھی ان کے سامنے رکھیں۔
اسپیکر چیمبر میں ہونے والی اس اہم بیٹھک میں اسپیکر سردار ایاز صادق، وفاقی وزرا محسن نقوی، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ جب کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی نے شرکت کی۔
مذاکرات کا پہلا روز ختم، حکومت اور اپوزیشن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، کل دوسرا دور ہوگا
اپوزیشن کی جانب سے اپوزیشن لیڈر سینیٹ راجا ناصر عباس، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، حلیم عادل شیخ اور عامر ڈوگر بھی شریک ہوئے۔
واضح رہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور آج دوپہر 2 بجے شیڈول تھا، جس کے بعد 3 بجے کا وقت مقرر کیا گیا تھا تاہم یہ اجلاس تقریباً دو گھنٹے کی تاخیر سے شام 5 بجے شروع ہوا۔
ذرائع کے مطابق اس تاخیر کی وجہ بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر کی ایک اہم حکومتی شخصیت سے ملاقات تھی، جس میں اپوزیشن کے مطالبات اور تجاویز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
باقاعدہ مذاکرات کے آغاز سے قبل اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے چیمبر میں بھی اپوزیشن رہنماؤں کی بیٹھک ہوئی جس میں حکومتی تجاویز پر مشاورت کی گئی۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سابق اسپیکر اسد قیصر اور راجا ناصر عباس پی ٹی آئی اور حکومتی وفد کے دیگر ارکان کی پارلیمنٹ ہاؤس آمد کے کافی دیر بعد پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تھے۔
بیرسٹر گوہر کے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر صحافیوں کی جانب تاخیر کی وجہ پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ اہم معاملات میں تاخیر ہوجاتی ہے، ابھی ہم مذاکرات کے لیے جارہے ہیں اور آج کا راؤنڈ بڑا اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتنے اہم مذاکرات کے دوران کچھ اراکین کے غیر ذمہ دارانہ بیانات پر مایوسی ہوئی۔ بیرسٹر گوہر نے اہم حکومتی شخصیت سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا تاہم امید ظاہر کی کہ آج کے مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہو رہے ہیں لیکن لانگ مارچ کے روکنے کے لیے جن انتہائی اقدامات کی بات کی جارہی ہے، مجھے اس پر حیرت ہے، جمہوریت میں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جو اس سے قبل 27 ستمبر کو ہونا تھا۔
جمعرات کو چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بتایا تھا کہ اپوزیشن اتحاد کے متفقہ فیصلے کی روشنی میں تحریک انصاف نے وفاقی حکومت کی جانب سے مذاکرات کی دعوت قبول کر لی ہے۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور گزشتہ روز، جمعے کو قومی اسمبلی کے اسپیکر کے چیمبر میں ہوا تھا۔ اس نشست میں حکومتی اور اپوزیشن وفود نے سیاسی صورت حال اور دیگر معاملات پر اپنے اپنے مؤقف سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا تھا۔
کئی گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد دونوں جانب سے ہفتے کو دوبارہ بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
ہفتے کے روز جہاں اسلام آباد میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ ہونے جارہا ہے وہیں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے 4 اکتوبر یعنی کل سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے فیصلے پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے، جس پر حکومت کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا۔
سہیل آفریدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری پیغام میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 4 اکتوبر کو لکی مروت کے گنڈی چوک سے اسلام آباد کی جانب سفر شروع کرے گا۔
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے سہیل آفریدی کے اس بیان کے متن کو وزیراعلیٰ کے منصب کے خلاف اور غیر شائستہ و قابلِ مذمت قرار دیا ہے۔
سہیل آفریدی کی ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت مذاکرات کو بامقصد اور نتیجہ خیز بنانا چاہتی ہے لیکن سہیل آفریدی کے بیانات بات چیت کے اس عمل کو متاثر کرسکتے ہیں، تحریک انصاف کو مذاکرات کے حتمی مرحلے تک ایسی گفتگو سے گریز کرنا چاہیے۔
پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری طریقے سے معاملات حل ہونا بہتر ہے، یہ مذاکرات اسی امید کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔
مذاکرات کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت مسائل کو الجھانے کے بجائے انہیں سلجھانے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل جاری ہے، اس لیے فی الحال اس پر کوئی تبصرہ نہ کرنا ہی بہتر ہوگا۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے بھی صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ مذاکرات سے اچھی امید رکھنی چاہیے اور تمام باتیں مذاکرات کی میز پر ہی کی جائیں گی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مذاکرات میں یہ طے ہوا تھا کہ اندر ہونے والی گفتگو باہر نہیں آئے گی لیکن کچھ افراد نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور اپنا یک طرفہ بیانیہ میڈیا کے سامنے پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ ہمیں بانی پی ٹی آئی تک رسائی ملنی چاہیے۔ اگر ایسا ہوتا ہے ملک کے سیاسی ماحول میں بہتری آئے گی۔
مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان بھی ایک گھنٹے سے زائد ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں محسن نقوی نے وزیراعظم کو اپوزیشن کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر بریفنگ دی، جبکہ ملک کی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ہفتے کے روز مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ سے قبل تحریک انصاف کی سیاسی اور کور کمیٹی کا بھی ایک اجلاس ہوا ہے، جس میں حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات اور 4 اکتوبر کو ہونے والے لانگ مارچ کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔
اجلاس میں بیرسٹر گوہر نے شرکاء کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق ارکان کی اکثریت نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کی حمایت کی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت کی صورت میں لانگ مارچ کی تاریخ آگے بڑھائی جا سکتی ہے جب کہ لانگ مارچ کو مؤخر یا منسوخ کرنے کے حوالے سے بھی مختلف تجاویز زیر غور آئیں۔
اپوزیشن اتحاد کے اس اجلاس میں شرکاء نے محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرانے کی تجویز کی بھی توثیق کی ہے۔











