راولپنڈی (کرائم رپورٹر): راولپنڈی کے سید پور روڈ پر واقع پنڈورہ بازار میں ایک غیر ملکی خاتون اور ٹیکسی ڈرائیور کے درمیان کرایے کی ادائیگی کے معاملے پر تنازع کھڑا ہوگیا، جس کے دوران مقامی تاجروں نے مداخلت کرکے معاملہ رفع دفع کرایا اور متاثرہ ڈرائیور کی مالی مدد بھی کی۔
متاثرہ ٹیکسی ڈرائیور عرفان اختر کے مطابق غیر ملکی خاتون نے انہیں شہر کے مختلف علاقوں کے چکر لگوائے، تاہم منزل پر پہنچنے کے بعد کرایہ ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے کرایہ طلب کیا تو خاتون نے مبینہ طور پر گالم گلوچ کی، تشدد کیا اور دھمکیاں بھی دیں۔
عرفان اختر کے مطابق واقعے کے دوران پنڈورہ بازار کے تاجروں نے انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جیب سے ایک ہزار روپے کرایہ ادا کیا، جبکہ خاتون آخری وقت تک کرایہ دینے سے انکاری رہیں اور نامناسب زبان استعمال کرتی رہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے وقت تھانہ نیو ٹاؤن کے ایس ایچ او اپنے علاقے میں گشت پر موجود تھے، تاہم وہ موقع پر نہیں پہنچے اور نہ ہی واقعے کی نوعیت جاننے یا ابتدائی تحقیقات کیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں پولیس کو فوری طور پر موقع پر پہنچ کر حقائق کا جائزہ لینا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق غیر ملکی خاتون کو بھی ضابطے کے مطابق شاملِ تفتیش کیا جا سکتا تھا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ کسی اور غیر قانونی سرگرمی یا جرم میں تو ملوث نہیں۔ تاہم اس حوالے سے پولیس کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس اپنے ہی دائرہ اختیار میں پیش آنے والے ایسے واقعات پر بروقت کارروائی نہ کرے تو اس سے جرائم کی روک تھام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب اس واقعے کا ایک مثبت پہلو بھی سامنے آیا، جہاں پنڈورہ بازار کے تاجروں نے متاثرہ ڈرائیور کو تنہا چھوڑنے کے بجائے اس کی مالی مدد کی اور اپنے خرچ پر کرایہ ادا کیا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آج بھی پاکستانی معاشرے میں محبت، بھائی چارہ، ہمدردی اور مظلوم کی مدد کا جذبہ زندہ ہے، اور مشکل وقت میں لوگ ایک دوسرے کا ساتھ دینے سے گریز نہیں کرتے۔











