اسکردو (روشن پاکستان نیوز): گلگت بلتستان میں عام انتخابات کیلیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا، پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود افراد ووٹ کاسٹ کر سکیں گے۔
آج صبح 8 بجے سے شروع ہونے والی پولنگ بغیر رکاوٹ شام 5 بجے تک جاری رہی۔ پولنگ اسٹیشنوں پر لوگوں کا ہجوم نظر آیا۔ تمام اضلاع میں تیرہ سو اکانوے پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے۔
الیکشن میں بارہ سے زائد جماعتیں اور آزاد سمیت تین سو چھیانوے امیدوار میدان میں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں کانٹے کا مقابلہ ہے۔
گلگت بلتستان اسمبلی مجموعی طور پر تینتیس نشستوں پر مشتمل ہے۔ چوبیس نشستوں پر براہِ راست انتخابات ہوئے، چھ نشستیں خواتین جبکہ تین ٹیکنوکریٹس کیلیے مختص ہیں۔
شفاف اور پُرامن انتخابی عمل کیلیے 7678 افراد پر مشتمل انتخابی عملہ اور 12 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار ڈیوٹی پر مامور ہیں، انتخابی عمل کی نگرانی کیلیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، اسکردو میں فلیگ مارچ بھی کیا گیا۔
پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فونز اور ریکارڈنگ ڈیوائسز لے جانے پر مکمل پابندی عائد رہی۔ اس پابندی سے الیکشن کمیشن کے اجازت نامہ ہولڈر میڈیا نمائندے اور مبصرین مستثنیٰ ہوں گے۔
17 نشستوں کی سادہ اکثریت
حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 17 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہوگی، 24 نشستوں پر 8 خواتین سمیت 400 سے زائد امیدوار آمنے سامنے ہیں۔
9لاکھ 63 ہزار، پانچ لاکھ 6 ہزار مرد اور 4 لاکھ 56 ہزار خواتین ووٹرز رجسٹرڈ ہیں، گلگت بلتستان اسمبلی کل 33 نشستوں پر مشتمل ہے، 24 براہ راست منتخب ارکان 6 خواتین نشستیں، 3 نشستیں ٹیکنو کریٹس کے لیے مختص ہیں۔
پی ٹی آئی کو بڑا جھٹکا، الیکشن کمیشن کا فیصلہ آگیا
دیامر اور اسکردو سیاسی طور پر انتہائی اہم اضلاع ہیں دونوں ضلعوں میں چار، چار انتخابی حلقے ہیں۔ گلگت، غذر اور گانچھے میں تین، تین انتخابی حلقے جب کہ نگر اور استور کے حصے میں دو دو انتخابی حلقے ہیں۔ اس کے علاوہ ہنزہ، شگر اور کھرمنگ چھوٹے اضلاع ہیں اور ان میں سے ہر ایک ضلع میں ایک ایک انتخابی حلقہ ہے۔
دیامر، پولنگ میں تاخیر اور سست روی
دیامر کے چاروں حلقوں میں پولنگ جاری ہے، بیش تر اسٹیشنز پر پولنگ کے عمل میں تاخیر ہوئی، کہیں سست روی کی شکایات بھی سامنے آئیں، لوگوں کی بڑی تعداد ووٹ پول کرنے کے لیے متعلقہ پولنگ اسٹیشن پر موجود ہے، تاہم بیش تر پولنگ اسٹیشنز پر ایک قطار ہونے کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ریٹرننگ آفیسر داریل نے اپیل کی ہے کہ گماری داریل میں سیکیورٹی عملہ نہ پہنچنے سے تصادم کا خدشہ ہے، اس لیے سیکیورٹی فراہم کی جائے۔
سوشل میڈیا پر امیدوار ریاض اکبر کی نااہلی سے متعلق نوٹیفکیشن
الیکشن کمیشن جی بی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر امیدوار ریاض اکبر کی نااہلی سے متعلق نوٹیفکیشن جعلی ہے، دستاویز الیکشن کمیشن نے جاری نہیں کی، اس کا کوئی قانونی یا انتظامی جواز نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے کہا نوٹیفکیشن پر صوبائی الیکشن کمشنر کا نام اور دستخط جعلی استعمال کیے گئے ہیں جو قابل تعزیر جرم ہے۔
جی بی الیکشن کمیشن کے مطابق اس معاملے کا نوٹس لیا جا رہا ہے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، اور اپیل کی گئی ہے کہ عوام، سیاسی جماعتیں، میڈیا غیر مصدقہ اور جعلی دستاویزات پر یقین نہ کریں، صرف الیکشن کمیشن کے سرکاری ذرائع سے جاری اطلاعات کو مستند تصور کیا جائے۔











