بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں عدالت کا بڑافیصلہ

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) ہائیکورٹ نے بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں بڑافیصلہ سناتے ہوئے دوسرے ملک سے اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے پر پی سی ایل میں نام ڈالنا غیر قانونی قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے بیرون ملک سفری پابندیوں کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور بڑا فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ محض ویزا اوور اسٹے کی بنیاد پر کسی دوسرے ملک سے ڈی پورٹ ہونا، کسی شہری پر سفری پابندی لگانے کا جواز نہیں بن سکتا۔

عدالت نے دوسرے ملک سے اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے والے شہریوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے متاثرہ شہری کا نام فوری طور پر لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا ہے۔

پنک لیڈیز: برطانیہ میں خواتین اور بچوں کے محفوظ سفر کی ایک قابلِ اعتماد سروس

اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس محمد آصف نے اس کیس کا 4 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے، جس میں شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کی بالادستی کو برقرار رکھا گیا ہے۔

وفاقی حکومت نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ مذکورہ شہری ایک خلیجی ملک میں اوور اسٹے کی وجہ سے ڈی پورٹ ہوا تھا۔

حکومت کے مطابق، پالیسی کے تحت دوسرے شہریوں کے ویزوں کے تحفظ اور ملک کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے افراد کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا جاتا ہے۔

عدالت نے حکومت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں تحریر کیا کہ کسی بھی شہری پر سفری پابندی عائد کرنے کے لیے کسی جرم، سیکیورٹی خدشے یا ناقابلِ تردید ثبوت کا ہونا ضروری ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ کسی جرم کے بغیر کسی شہری کے بیرون ملک سفر اور روزگار کے آئینی حق پر پابندی لگانے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے، شہری کا نام سفری پابندی کی لسٹ میں برقرار رکھنا آئین کے بنیادی حقوق اور قانونی تقاضوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

مزید خبریں