تہران(روشن پاکستان نیوز) ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی حالیہ ثالثی کوششوں کے بعد امریکا کی جانب سے نئی تجاویز موصول ہوئی ہیں، ایران ان تجاویز پر غور کر رہا ہے، ابھی ان تجاویز پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹریٹ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا ہےکہ ایران اور اس کی مسلح افواج کی تاریخی مزاحمت کے بعد مخالفین کو فوجی میدان میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد امریکا نے جنگ کے دسویں دن سے جنگ بندی کی درخواستیں شروع کردیں تھیں، مذاکرات کی درخواستوں کے بعد ایران نے پاکستان کی ثالثی کے ذریعے ایک مجوزہ فریم ورک کی بنیاد پر مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی۔
بیان کے مطابق ایرانی وفد نے طویل مذاکرات میں حصہ لیا اور امریکا پر گہرے عدم اعتماد کے باوجود ملک کا مؤقف مضبوطی سے پیش کیا۔ تاہم امریکا نے مذاکرات کے دوران نئے اور حد سے زیادہ مطالبات پیش کیے جس پر ایران نے سخت مؤقف اختیار کیا۔ جب تک امریکا اپنے مطالبات زمینی حقائق کے مطابق نہیں لاتا، مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہوسکتے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ حال ہی میں پاکستان کی ثالثی کے ذریعے نئی تجاویز موصول ہوئی ہیں، جن کا ایران جائزہ لے رہا ہے اور ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
کونسل نے زور دیا کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم قومی مفادات پر کسی قسم کی رعایت نہیں دے گی اور ایرانی عوام کے حقوق اور قربانیوں کا ہر حال میں دفاع کرے گی۔
بیان کے مطابق ایران کے لیے عارضی جنگ بندی کی ایک اہم شرط یہ تھی کہ بشمول لبنان تمام محاذوں پر فائر بندی ہو گی، تاہم صہیونی حکومت نے ابتدا ہی سے لبنان اور حزب اللہ پر حملے کرکے اس کی خلاف ورزی کی، بعد ازاں ایران کے دباؤ پر لبنان میں جنگ بندی قبول کی گئی اور یہ طے پایا کہ اگر دشمن تمام محاذوں پر جنگ بندی کا احترام کرے تو آبنائے ہرمز کو عارضی اور مشروط طور پر صرف تجارتی جہازوں کے لیے کھولا جائےگا، جب کہ فوجی جہازوں یا مخالف ممالک کے جہازوں کو اجازت نہیں ہوگی۔
ایران آبنائے ہرمز دوبارہ بندکرنا چاہتا ہے لیکن وہ امریکا کو بلیک میل نہیں کرسکتا، ٹرمپ
بیان میں کہا گیا کہ چونکہ خلیج میں امریکی فوجی اڈوں کی زیادہ تر سپلائی آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے، جسے ایران اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، اس لیے ایران جنگ کے مکمل خاتمے تک اس اہم گزرگاہ پر مکمل نگرانی اور کنٹرول برقرار رکھےگا۔
ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے صرف تجارتی جہازوں کو گزرنے کی عارضی طور پر اجازت ہوگی، فوجی جہازوں یا مخالف ممالک کے غیر تجارتی جہازوں کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، ہر جہاز کے لیے ایرانی اجازت اور رجسٹریشن لازمی ہوگی، سکیورٹی اور خدمات کے بدلے فیس ادا کرنا ہوگی، جہازوں کو مخصوص راستوں پر چلنےکی پابندی کرنا ہوگی۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر دشمن بحری آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنے یا ناکہ بندی کی کوشش کرے گا تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائےگا، اور ایران آبنائے ہرمز کو محدود یا مشروط طور پر بھی نہیں کھولےگا۔











