بدھ,  04 نومبر 2026ء
بیرسٹر امجد ملک کی لندن میں لاء سوسائٹی کے پرو بونو چارٹر کی دسویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت

رپورٹ ۔ شیخ اعجاز افضل

برطانیہ کے ممتاز پاکستانی نژاد قانون دان، سپریم کورٹ آف انگلینڈ اینڈ ویلز کے سالیسٹر ایڈووکیٹ، بیرسٹر امجد ملک نے منگل، 3 نومبر 2026ء کو لندن میں لاء سوسائٹی آف انگلینڈ اینڈ ویلز کے مرکزی دفتر، 113 چانسری لین میں منعقدہ پرو بونو چارٹر (Pro Bono Charter) کی دسویں سالگرہ کی خصوصی تقریب میں شرکت کی۔ پرو بونو ویک فری کام کرنے والے وکلاء کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے منایا جاتا ہے۔

اس موقع پر پرو بونو ویک (Pro Bono Week) کی پچیسویں سالگرہ بھی منائی گئی، جس کا مقصد قانونی برادری کی جانب سے معاشرے کے کمزور، پسماندہ اور مالی وسائل سے محروم افراد کو مفت قانونی معاونت فراہم کرنے کی دیرینہ روایت اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔

تقریب کا افتتاح لاء سوسائٹی کے چیف ایگزیکٹو ایان جیفری (Ian Jeffery) نے کیا، جبکہ پینل مباحثے کی صدارت لاء سوسائٹی کے صدر بریٹ ڈکسن (Brett Dixon) نے کی۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کے سالیسٹر جنرل اینڈی سلاٹر (Andy Slaughter) تقریب کے نمایاں مقررین میں شامل تھے۔

اس اہم تقریب میں قانونی شعبے کی ممتاز شخصیات، سینئر وکلاء، مفت قانونی خدمات فراہم کرنے والے ماہرین، مختلف لاء فرمز کے نمائندوں اور پرو بونو سرگرمیوں سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

سالیسٹر جنرل اینڈی سلاٹر نے اپنے خطاب میں مفت قانونی خدمات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پرو بونو چارٹر کے دس سال مکمل ہونا قانونی پیشے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے معاشرے کے ضرورت مند طبقات کو انصاف کی فراہمی میں وکلاء کے رضاکارانہ کردار کو سراہا۔

لاء سوسائٹی کے صدر بریٹ ڈکسن کی زیرِ صدارت ہونے والے پینل مباحثے میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے ممتاز قانونی ماہرین نے گزشتہ دس برسوں کے دوران پرو بونو خدمات کی کامیابیوں، تجربات اور مستقبل کے چیلنجز پر اظہارِ خیال کیا۔

پینل کے شرکاء میں مکل ایل ایل پی (Muckle LLP) کے سالیسٹر جوش کیمبل (Josh Campbell)، پرووینیو لٹیگیشن ایل ایل پی (Provenio Litigation LLP) کے جیک اینرائٹ (Jack Enright)، بیکر میکینزی سالیسٹرز لمیٹڈ (Baker McKenzie Solicitors Ltd) کی ایما ریہال وائلڈ (Emma Rehale Wilde)، جو لاء ورکس (LawWorks) کی ٹرسٹی بھی ہیں، بی ٹی (BT) کی پرنسپل آف ریگولیٹری افیئرز نینا روپانی (Neena Rupani) اور ہوگن لوولز (Hogan Lovells) کی انٹرنیشنل پرو بونو پارٹنر یاسمین والجی او بی ای (Yasmin Waljee OBE) شامل تھیں۔ کیڈوالڈر (Cadwalader) سے وابستہ نمائندوں نے بھی پرو بونو خدمات کے فروغ کے حوالے سے اپنے خیالات پیش کیے۔

مقررین نے جدید دور میں مفت قانونی معاونت کی بڑھتی ہوئی اہمیت، قانون کی حکمرانی اور انصاف تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے قانونی برادری کی اجتماعی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔

تقریب میں سوال و جواب کی نشست بھی منعقد ہوئی، جس کے بعد شرکاء کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا، جہاں مشروبات اور مختلف اقسام کی مٹھائیوں اور دیگر تواضع کا اہتمام کیا گیا تھا۔

بیرسٹر امجد ملک، جو راچڈیل میں قائم امجد ملک سالیسٹرز کے پرنسپل ہیں، گزشتہ دس برسوں سے پرو بونو چارٹر کے بانی دستخط کنندگان میں شامل ہیں۔ وہ اپنے پورے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران انصاف تک رسائی، انسانی حقوق کے تحفظ اور مستحق افراد کو رضاکارانہ قانونی نمائندگی فراہم کرنے کے لیے سرگرمِ عمل رہے ہیں۔

ان کی مفت قانونی خدمات کا باضابطہ اعتراف 6 جولائی 2001ء کو کیا گیا، جب انہیں لندن کے لاء سوسائٹی ہال میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں ینگ سالیسٹرز پرو بونو ایوارڈ (Young Solicitor’s Pro Bono Award) سے نوازا گیا۔

یہ اعزاز اس وقت کے لاء سوسائٹی کے صدر مائیکل نیپیئر (Michael Napier) نے انہیں پیش کیا تھا۔

یہ ایوارڈ بالخصوص گھریلو تشدد کا شکار خواتین، ملک بدری کے خطرات سے دوچار تارکینِ وطن اور ایسے افراد کو قانونی معاونت فراہم کرنے پر دیا گیا تھا جو وکلاء کی فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔

اس سے قبل سال 2000ء میں بیرسٹر امجد ملک کو انسانی حقوق کے شعبے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں ’’ینگ ہیومن رائٹس لائر آف دی ایئر‘‘ (Young Human Rights Lawyer of the Year) کے اعزاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

یہ اعزازات بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ، قانون کے سامنے مساوات اور معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے ان کی مسلسل قانونی جدوجہد کا اعتراف ہیں۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر امجد ملک نے کہا:

’’پرو بونو خدمات وکالت کے پیشے کا لازمی حصہ ہیں۔ انصاف تک رسائی کا انحصار کبھی بھی کسی شخص کی مالی حیثیت پر نہیں ہونا چاہیے۔ مفت قانونی معاونت محض خیرات یا فلاحی کام نہیں بلکہ ہر اس وکیل کی پیشہ ورانہ اور اخلاقی ذمہ داری ہے جو قانون کی حکمرانی، انصاف، مساوات اور انسانی وقار پر یقین رکھتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا:

’’میرے لیے یہ ذاتی طور پر انتہائی اطمینان اور مسرت کا موقع ہے کہ میں پرو بونو چارٹر کے ابتدائی دستخط کنندگان میں شامل ہونے کی حیثیت سے اس کی دسویں سالگرہ کی تقریبات میں شریک ہوں۔ یہ میرے لیے باعثِ اعزاز تھا کہ 2001ء میں مجھے لاء سوسائٹی کے پرو بونو ایوارڈ سے نوازا گیا، اور آج پچیس برس گزرنے کے باوجود ایسے افراد کی خدمت کے لیے میرا عزم پہلے دن کی طرح مضبوط ہے جو قانونی نمائندگی کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔‘‘

بیرسٹر امجد ملک نے لاء سوسائٹی، اس کے صدر بریٹ ڈکسن، سالیسٹر جنرل اینڈی سلاٹر اور برطانیہ کی پوری قانونی برادری کو اس اہم سنگِ میل کے حصول پر مبارک باد پیش کی۔

انہوں نے خصوصی طور پر لاء سوسائٹی کی پالیسی ایڈوائزر برائے پرو بونو اور عوامی قانونی تعلیم، ویلیری رابرٹسن (Valerie Robertson) کی پرو بونو چارٹر اور مفت قانونی خدمات کے فروغ کے لیے بے لوث محنت، لگن اور مسلسل کاوشوں کو سراہا۔

بیرسٹر امجد ملک نے زور دیا کہ قانونی برادری کو پرو بونو خدمات کے کلچر کو مزید مضبوط بنانا چاہیے، خصوصاً ایسے وقت میں جب قانونی امداد اور مناسب اخراجات پر قانونی نمائندگی تک رسائی بہت سے افراد اور خاندانوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا:

’’کسی بھی نظامِ انصاف کی اصل کامیابی کا معیار یہ ہے کہ وہ اپنے معاشرے کے سب سے کمزور اور بے سہارا شہریوں کے حقوق کا کس حد تک مؤثر تحفظ کرتا ہے۔ انصاف ہر شہری کی دسترس میں ہونا چاہیے، نہ کہ صرف ان لوگوں کے لیے جو اس کی قیمت ادا کرنے کی استطاعت رکھتے ہوں۔‘‘

بیرسٹر امجد ملک گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے برطانیہ میں وکالت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور امیگریشن، آئینی قانون اور انسانی حقوق کے مقدمات میں نمایاں خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ رضاکارانہ قانونی معاونت اور سماجی و فلاحی سرگرمیوں میں بھی مسلسل فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں بھی قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق کے تحفظ، مساوی انصاف اور معاشرے کے محروم طبقات کو مفت قانونی معاونت کی فراہمی کے لیے اپنی پیشہ ورانہ خدمات جاری رکھیں گے۔

مزید خبریں