اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کے باوجود ایک نئی تحقیق نے اہم خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں ڈاکٹر سے ملاقات سے پہلے مریضوں سے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام سوالات کرے گا، علامات کا ابتدائی تجزیہ کرے گا، ہنگامی صورت حال کا اندازہ لگائے گا اور ممکنہ طور پر ڈاکٹر سے ملاقات کا وقت بھی طے کرے گا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ لوگ AI چیٹ بوٹس کو وہ تفصیلات فراہم نہیں کرتے جو وہ انسانی ڈاکٹروں کو دیتے ہیں۔
بین الاقوامی سائنسی جریدے نیچر ہیلتھ میں شائع ہونے والی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مریض مصنوعی ذہانت سے بات کرتے وقت اپنی علامات کم تفصیل اور کم مؤثر انداز میں بیان کرتے ہیں، جس سے تشخیص کے معیار پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ اس تحقیق کی قیادت یونیورسٹی آف فورٹسبرگ کے پروفیسر ولفریڈ کونڈی اور محقق مورٹز رائس نے کی، جب کہ اس میں برلن کے شاریٹے یونیورسٹی اسپتال، یونیورسٹی آف کیمبرج، ہیلیوس کلینیکم ایمیل فون بیرنگ اور ویوانتس کلینیکم نوی کولن کے سائنس دان بھی شریک تھے۔
زچہ و بچہ کی صحت میں بہتری کے لیے ہیلتھ سروسز اکیڈمی اور محکمہ صحت پنجاب کے درمیان اہم معاہدہ
تحقیق کے دوران 500 شرکا کو غیر معمولی سر درد اور فلو جیسی علامات پر مبنی فرضی طبی رپورٹس تیار کرنے کو کہا گیا۔ شرکا کو بتایا گیا کہ ان کی رپورٹس یا تو مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ دیکھے گا یا ایک انسانی ڈاکٹر۔ بعد ازاں محققین نے ان رپورٹس کا جائزہ لے کر یہ جانچا کہ وہ طبی لحاظ سے کتنی مفید اور تشخیص میں کتنی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
نتائج میں واضح فرق سامنے آیا۔ جب شرکا نے سمجھا کہ ان کی معلومات ایک AI نظام کو دی جا رہی ہیں تو انھوں نے علامات کی کم تفصیل بیان کی۔ چیٹ بوٹس کے لیے لکھی گئی رپورٹس کا اوسط 228 اعشاریہ 7 حروف رہا، جب کہ انسانی ڈاکٹروں کے لیے لکھی گئی رپورٹس اوسطاً 255 اعشاریہ 6 حروف پر مشتمل تھیں۔
محققین کے مطابق اگرچہ یہ فرق معمولی محسوس ہوتا ہے، لیکن طبی تشخیص میں یہی کمی سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے کیوں کہ مصنوعی ذہانت درست مشورہ اسی وقت دے سکتی ہے جب مریض مکمل اور واضح معلومات فراہم کرے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ بہت سے افراد کو یقین نہیں ہوتا کہ مصنوعی ذہانت ان کی ذاتی حالت اور انفرادی پیچیدگیوں کو سمجھ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ’’انفرادیت کی نظر اندازی‘‘ کا یہی احساس لوگوں کو اہم طبی تفصیلات چھپانے یا مختصر معلومات دینے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کے علاوہ رازداری سے متعلق خدشات اور الگورتھم پر مبنی فیصلوں پر عدم اعتماد بھی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
محقق مورٹز رائس کا کہنا ہے کہ اگر مریض کو یہ اعتماد نہ ہو کہ مشین اس کی کیفیت کو صحیح طور پر سمجھ سکتی ہے تو وہ غیر ارادی طور پر ضروری معلومات فراہم نہیں کرتا، جس سے تشخیص متاثر ہوتی ہے اور اہم طبی نکات نظام تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔ تحقیقی ٹیم نے خبردار کیا کہ صرف AI ٹیکنالوجی کو مزید طاقت ور بنانا کافی نہیں ہوگا بلکہ مریضوں اور ڈیجیٹل سسٹمز کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے کے لیے جدید اور مؤثر یوزر انٹرفیس بھی ناگزیر ہوگا۔
ماہرین نے تجویز دی ہے کہ مستقبل کے AI طبی نظام ایسے بنائے جائیں جو مریضوں سے خودکار فالو اپ سوالات کریں، واضح مثالیں فراہم کریں اور صارفین کو مکمل معلومات دینے کی ترغیب دیں تاکہ غلط تشخیص کے امکانات کم کیے جا سکیں اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔











