اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) روزانہ کچھ وقت تک چہل قدمی کرنا مجموعی صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔
مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ کچھ دیر کی چہل قدمی نظام ہاضمہ کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے؟
جی ہاں واقعی روزانہ 20 منٹ کی چہل قدمی کو عادت بنا کر آپ قبض جیسے عام مگر تکلیف دہ مسئلے سے نجات پاسکتے ہیں۔
جسمانی سرگرمیوں سے غذائی نالی کے مسلز کو کھانا ٹکڑے کرکے جسم کے اندر گزارنے میں مدد ملے گی۔
پاکستان میں ذہنی مریضوں کی تعداد 3 کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کرگئی: وزارت صحت
کچھ عرصے پہلے جرنل سائنٹیفک رپورٹس میں شائع تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ روزانہ کچھ دیر کی مختصر چہل قدمی معدے کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔
اس تحقیق میں 21 افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کو ٹریڈ مل پر 20 منٹ تک ان کی پسند کی رفتار پر چلنے کی ہدایت کی گئی جبکہ بعد میں یہ دورانیہ 15 منٹ کر دیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ چہل قدمی ختم ہونے کے بعد محض ایک سے 2 منٹ کے اندر معدے کی سرگرمیاں بڑھ گئیں جس سے عندیہ ملا کہ کھانا غذائی نالی سے زیادہ تیز رفتاری سے گزر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق جب آپ چہل قدمی یا جاگنگ کرتے ہیں، آنتیں آپ کے معدے کے اندر حرکت کرنے لگتی ہیں اور ان کی سرگرمیاں بڑھتی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جسمانی سرگرمیوں سے عصبی سرگرمیاں بھی بڑھتی ہیں جبکہ مسلز اور آنتوں کے افعال بہتر ہوتے ہیں، جس سے قبض سے نجات پانے میں مدد ملتی ہے۔
البتہ ان کا کہنا تھا کہ محض جسمانی سرگرمیوں پر مکمل انحصار کرنا کافی نہیں بلکہ اچھی غذا کو بھی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔
بی ایم جے اوپن اسپورٹ اینڈ ایکسرسائز میڈیسن میں شائع ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر ایک فرد 3 ماہ تک روزانہ 3 ہزار قدم چلتا ہے تو دائمی قبض سے نمایاں ریلیف مل سکتا ہے۔
چہل قدمی کے علاوہ یوگا اور سائیکلنگ سے بھی پیٹ پھولنے، اضافی گیس اور قبض سے نجات پانے میں مدد ملتی ہے۔
اسی طرح مناسب مقدار میں پانی پینے سے بھی قبض سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔
واضح رہے کہ ایک تخمینے کے مطابق دنیا کی 16 فیصد آبادی کو قبض جیسے مرض کا سامنا ہوتا ہے۔
زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا، پانی کم پینا اور متعدد دیگر وجوہات کے باعث لوگ قبض کے شکار ہوتے ہیں۔
بزرگوں میں یہ زیادہ عام ہوتا ہے مگر ہر عمر کے افراد اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
ہر فرد میں اس کی شدت یا علامات مختلف ہوسکتی ہیں اور وجوہات بھی مختلف ہوسکتی ہیں۔











