اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ خواتین میں بعض بیماریوں کا خطرہ اور اموات کی شرح مردوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔
خواتین میں امراض قلب انتہائی سنگین اور جان لیوا مسئلہ ہے جسے اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے جبکہ یہ خواتین میں اموات کی شرح میں اضافے کی بھی بڑی وجہ ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق مردوں کے برعکس خواتین کو سینے میں شدید درد کے علاوہ بھی مختلف علامات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق بعض صحت کے مسائل خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ متاثر کرتے ہیں، تاہم اکثر لوگ ان بیماریوں کی علامات اور خطرات سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوتے۔
ماہرین کے مطابق دل کی بیماری خواتین میں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہے، جبکہ اس کی علامات مردوں سے مختلف ہوسکتی ہیں، جس کے باعث بعض اوقات بروقت تشخیص میں دشواری پیش آتی ہے۔
اسی طرح مائیگرین بھی خواتین کو مردوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ متاثر کرتا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ ہارمونز میں تبدیلی کو قرار دیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید سر درد بعض اوقات مریض کو روشنی اور شور سے دور رہنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
طبی رپورٹ کے مطابق خواتین میں اینزائٹی اور ڈپریشن کا خطرہ بھی مردوں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہو سکتا ہے، جس کی وجہ صرف جذباتی کیفیت نہیں بلکہ دماغی کیمیا اور ہارمونز میں اتار چڑھاؤ بھی ہے۔
مالی مشکلات، بے روزگاری اور محدود مواقع، پاکستانی خواتین کب آگے بڑھیں گی؟
ماہرین نے مزید بتایا کہ لوپس اور ملٹی پل اسکلروسیس جیسی مدافعتی نظام کی بیماریاں بھی خواتین کو زیادہ متاثر کرتی ہیں، بعض صورتوں میں یہ شرح 80 فیصد تک دیکھی گئی ہے۔
اسی طرح آسٹیوپوروسس یعنی ہڈیوں کی کمزوری بھی خواتین میں زیادہ پائی جاتی ہے، خصوصاً مینوپاز کے بعد اور طبی اعداد و شمار کے مطابق اس بیماری سے متاثرہ افراد میں تقریباً 80 فیصد خواتین شامل ہوتی ہیں۔
ماہرین نے خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی صحت سے متعلق علامات کو نظر انداز نہ کریں اور بروقت طبی مشورہ حاصل کریں تاکہ پیچیدگیوں سے محفوظ رہا جاسکے۔











