اتوار,  24 مئی 2026ء
بڑھاپا روکنے کا نیا فارمولا: موسیقی، کتابیں اور آرٹ گیلریاں بڑھاپا سست کر سکتی ہیں

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ موسیقی، کتابیں اور آرٹ گیلریاں بڑھاپا سست کر سکتی ہیں، یعنی فن و ثقافت سے وابستگی بڑھاپے کی رفتار سست کرنے میں مددگار ہے، اور آرٹ اور موسیقی سے دل ہی نہیں، عمر بھی جوان رہتی ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے محققین کی نئی تحقیق کے مطابق مطالعہ کرنا، موسیقی سننا یا آرٹ گیلری اور میوزیم جانا جیسی فنونِ لطیفہ سے متعلق سرگرمیوں میں باقاعدگی سے حصہ لینا حیاتیاتی بڑھاپے کی رفتار کو سست کر سکتا ہے۔

11 مئی کو جرنل Innovation in Aging میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں یہ جانچا گیا ہے کہ آیا تفریحی سرگرمیاں، جیسے فنونِ لطیفہ سے وابستگی اور جسمانی سرگرمی، بڑھاپے کے عمل سے منسلک ہو سکتی ہیں یا نہیں۔ اس تحقیق میں فنونِ لطیفہ اور جسمانی سرگرمیوں کے بڑھاپے کے عمل سے تعلق کا جائزہ لیا گیا۔

اس تحقیق میں برطانیہ کے 3556 بالغ افراد کے سروے جوابات اور خون کے ٹیسٹ کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے شرکا کی فنون و ثقافتی سرگرمیوں میں دل چسپی کا موازنہ ڈی این اے میں ہونے والی ان کیمیائی تبدیلیوں سے کیا جو جینیاتی کوڈ تبدیل کیے بغیر حیاتیاتی بڑھاپے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

تحقیقی ٹیم نے پایا کہ جو افراد فنون اور ثقافتی سرگرمیوں میں زیادہ باقاعدگی اور متنوع انداز میں حصہ لیتے تھے، ان میں بڑھاپے کی رفتار نسبتاً سست اور حیاتیاتی عمر کم دکھائی دی، جس کا اندازہ ڈی این اے میں ہونے والی تبدیلیوں سے لگایا گیا۔ تحقیق کے مطابق یہ اثرات ورزش کے فوائد سے مشابہ تھے۔ مثال کے طور پر جو لوگ ہفتے میں کم از کم ایک بار فنونِ لطیفہ سے متعلق سرگرمی انجام دیتے تھے، ان میں بڑھاپے کی رفتار ان افراد کے مقابلے میں 4 فی صد کم دیکھی گئی جو شاذ و نادر ہی ایسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے۔

یہی تناسب ان افراد میں بھی دیکھا گیا جو ہفتے میں کم از کم ایک بار ورزش کرتے تھے، بہ نسبت ان لوگوں کے جو بالکل ورزش نہیں کرتے تھے۔ تحقیق میں یہ تعلق 40 سال یا اس سے زائد عمر کے درمیانی اور معمر افراد میں زیادہ مضبوط پایا گیا، اور یہ نتائج باڈی ماس انڈیکس (BMI)، تمباکو نوشی، تعلیمی سطح اور آمدنی جیسے عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی برقرار رہے۔

مرکزی مصنفہ پروفیسر ڈیزی فانکورٹ، جو یو سی ایل انسٹیٹیوٹ آف ایپیڈیمیالوجی اینڈ ہیلتھ کیئر سے وابستہ ہیں، نے کہا کہ یہ نتائج حیاتیاتی سطح پر فنون کے صحت پر اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ شواہد اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ فنون اور ثقافتی سرگرمیوں کو بھی ورزش کی طرح صحت کے فروغ کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر تسلیم کیا جائے۔

انھوں نے مزید کہا کہ مختلف قسم فنونِ لطیفہ کی سرگرمیوں میں حصہ لینا زیادہ مفید ہو سکتا ہے کیوں کہ ہر سرگرمی میں جسمانی، ذہنی، جذباتی یا سماجی تحرک جیسے مختلف عناصر شامل ہوتے ہیں جو صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

تحقیق کے سینئر مصنف ڈاکٹر فائی فائی بو نے کہا کہ یہ پہلی تحقیق ہے جو یہ شواہد فراہم کرتی ہے کہ فنون اور ثقافتی سرگرمیوں میں دل چسپی حیاتیاتی بڑھاپے کی رفتار کو سست کرنے سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اس سے پہلے بھی تحقیق میں ثابت ہو چکا ہے کہ فنونِ لطیفہ سے متعلق سرگرمیاں ذہنی دباؤ کم کرتی ہیں، جسمانی سوزش گھٹاتی ہیں اور دل کی بیماریوں کے خطرات میں کمی لاتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ورزش کے فوائد ہوتے ہیں۔

محققین نے برطانیہ کے UK Household Longitudinal Study کے ڈیٹا کا استعمال کیا، جس میں شرکا کے خون کے نمونوں کے ذریعے حیاتیاتی عمر اور بڑھاپے کی رفتار کا اندازہ لگایا گیا۔ اس مقصد کے لیے سات ایپی جینیٹک کلاک ٹیسٹ استعمال کیے گئے، جو عمر سے متعلق ڈی این اے تبدیلیوں (ڈی این اے میتھائلیشن) کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہر ٹیسٹ نے جینوم کے مختلف حصوں میں میتھائلیشن کی پیمائش کی۔

دو جدید ترین کلاکس، DunedinPoAm اور DunedinPACE، بڑھاپے کی رفتار کا اندازہ لگاتے ہیں، جہاں تیز رفتار بڑھاپا عمر سے متعلق بیماریوں کے زیادہ خطرے سے منسلک ہوتا ہے۔ تحقیق میں پایا گیا کہ فنون و ثقافتی سرگرمیوں اور جسمانی سرگرمی دونوں کی باقاعدگی اور تنوع سست بڑھاپے سے وابستہ تھے۔

DunedinPACE کلاک کے مطابق سال میں کم از کم تین بار فنونِ لطیفہ کی سرگرمی میں حصہ لینے والے افراد میں بڑھاپے کی رفتار 2 فی صد کم تھی، ماہانہ سرگرمی 3 فی صد اور ہفتہ وار سرگرمی 4 فی صد سست بڑھاپے سے منسلک پائی گئی، بہ نسبت ان افراد کے جو سال میں تین بار سے بھی کم ایسی سرگرمیوں میں شریک ہوتے تھے۔

ایک اور ٹیسٹ PhenoAge میں، جو حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگاتا ہے، ہفتہ وار فنون اور ثقافتی سرگرمیوں میں شریک افراد اوسطاً ایک سال کم عمر دکھائی دیے، جب کہ ہفتہ وار ورزش کرنے والے افراد اوسطاً آدھا سال کم عمر نظر آئے۔

تاہم تحقیق میں شامل دیگر پرانے ایپی جینیٹک کلاکس میں نہ فنون و ثقافتی سرگرمیوں اور نہ ہی جسمانی سرگرمی کے واضح فوائد سامنے آئے۔ محققین کے مطابق یہ نتائج سابقہ تحقیقات سے مطابقت رکھتے ہیں، جن میں ان کلاکس کے ذریعے ماپی گئی ایپی جینیٹک عمر اور جسمانی کارکردگی، جیسے چلنے کی رفتار، کے درمیان کوئی واضح تعلق نہیں پایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر یہ پرانے کلاکس عمر سے متعلق زوال کی پیش گوئی کے لیے کم حساس ہیں۔

پروفیسر فانکورٹ اور ان کی ٹیم گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے فنون اور صحت کے درمیان تعلقات پر تحقیق کر رہی ہے۔ پروفیسر فانکورٹ یونیسکو کی آرٹس اینڈ گلوبل ہیلتھ چیئر بھی ہیں اور یو سی ایل میں عالمی ادارۂ صحت کے آرٹس اینڈ ہیلتھ تعاون مرکز کی ڈائریکٹر بھی ہیں۔

مزید خبریں