اسلام آباد(سعد عباسی) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہنی ٹریپ کے ذریعے فراڈ کا ایک اور واقعہ سامنے آ گیا ہے، جہاں ایک سرکاری ملازم کو بھاری رقم سے محروم کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق تھانہ مارگلہ کی حدود میں پیش آنے والے اس واقعے میں متاثرہ شہری محمد ساجد نے درخواست دی کہ اپریل 2025 میں ان کی ملاقات دو خواتین سے ہوئی جنہوں نے مالی مشکلات اور سرمایہ کاری کے نام پر ان کا اعتماد حاصل کیا۔
اسلام آباد: تھانہ گولڑہ میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی اور دبنگ کارروائی، ملزم یاسر گرفتار
مدعی کے مطابق ملزمان نے قریبی تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پہلے 20 لاکھ روپے نقد لیے اور اس کے بدلے بینک چیکس بطور ضمانت فراہم کیے۔ بعد ازاں مئی سے جولائی 2025 کے دوران مزید 9 لاکھ روپے بھی مختلف بینک ٹرانزیکشنز کے ذریعے حاصل کیے گئے۔ متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے رقم واپسی کا مطالبہ کیا تو ٹال مٹول سے کام لیا گیا، اور اکتوبر 2025 میں جب چیک بینک میں جمع کروائے گئے تو وہ رقم نہ ہونے کے باعث ڈس آنر ہو گئے۔
ابتدائی طور پر پولیس کی جانب سے کارروائی میں تاخیر کی گئی تاہم بعد میں اعلیٰ حکام کی مداخلت پر مقدمہ درج کر لیا گیا۔ پولیس نے دھوکہ دہی اور بوگس چیک دینے کی دفعات کے تحت کیس درج کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر شہریوں کے لیے وارننگ ہے کہ وہ مالی لین دین میں احتیاط برتیں اور غیر مصدقہ افراد پر اعتماد کرنے سے گریز کریں۔











