اتوار,  19 اپریل 2026ء
لندن میں یہودی عبادت گاہوں پر آتشزدگی کے پے در پے حملے، تحقیقات شروع!

لندن(روشن پاکستان نیوز) برطانیہ کی انسدادِ دہشت گردی پولیس شمالی لندن میں یہودی عبادت گاہوں اور مقامات پر ہونے والے آتشزدگی کے پے در پے واقعات کے ممکنہ ایرانی روابط کی چھان بین کر رہی ہے۔

پولیس کے مطابق تازہ واقعہ ہیرو کے علاقے کی ایک یہودی عبادت گاہ میں پیش آیا، جہاں اتوار کی رات تقریباً بارہ بجے عمارت کی کھڑکی کو نقصان پہنچایا گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس گزشتہ حملوں کے بعد علاقے میں حفاظتی گشت کر رہی تھی۔

پولیس کی ایک اعلیٰ افسر وِکی ایونز نے بتایا کہ یہ تمام حملے ایک ہی نوعیت کے ہیں اور خاص طور پر یہودی و اسرائیلی مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق ان کارروائیوں کی ذمہ داری ایک گروہ “حرکت اصحاب الیمین الاسلامیہ” نے قبول کی ہے، جسے “حیی” بھی کہا جاتا ہے۔ اس گروہ نے حالیہ عرصے میں یورپ کے مختلف علاقوں میں اسی نوعیت کے حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

سماجی ذرائع پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ایک شخص کو سیاہ لباس میں آتش گیر شے جلانے کے بعد عبادت گاہ پر پھینکتے اور وہاں سے فرار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور، امریکی ایڈوانس ٹیم پاکستان پہنچ گئی

پولیس کے مطابق اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا یہ کارروائیاں ایران سے وابستہ عناصر کے ذریعے کرائی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعض افراد مالی فائدے کے لیے ایسی کارروائیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور معاشرے میں خوف و نفرت پھیلانے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی۔

دوسری جانب ماہرین نے اس گروہ کو مشکوک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ نو مارچ سے قبل اس کا کوئی واضح وجود سامنے نہیں آیا، جس سے اس کی حقیقت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

گروہ اس سے قبل گولڈرز گرین میں یہودی برادری کی ایمبولینسوں کو نذرِ آتش کرنے، ہینڈن میں ایک عمارت پر حملہ کرنے اور اسرائیلی سفارت خانے کے قریب مشکوک سرگرمیوں کی ذمہ داری بھی قبول کر چکا ہے۔

برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے ان واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے ناقابلِ برداشت ہیں اور یہودی برادری کو نشانہ بنانا دراصل پورے ملک کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔

حملے کے نتیجے میں عبادت گاہ کے ایک کمرے کو معمولی نقصان پہنچا جبکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ مقامی مذہبی پیشوا یہودا بلیک کے مطابق آتش گیر شے طبی کمرے میں پھینکی گئی۔

یہ عبادت گاہ ایک اسکول اور بچوں کے کھیل کے میدان کے قریب واقع ہے، جس کے باعث سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

برطانیہ کے چیف ربی ایفرائیم مِروِس نے اسے بزدلانہ حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں یہودی برادری کے خلاف بڑھتا ہوا تشدد انتہائی تشویشناک ہے۔

مزید خبریں