حرمین شریفین کا تحفظ پوری امتِ مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے؛ پاکستان کی مخلصانہ سفارت کاری قابلِ تحسین۔ اہل حدیث علماء كا مشتركہ موقف
مکہ معاہدہ اور بدر مفاہمت دفاعی تعاون کے اہم سنگِ میل؛ مسلم دنیا کا اتحاد، شعائرِ اسلام اور مدارسِ دینیہ کا تحفظ اور دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیر ہیں
اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) جمعیت اہلِ حدیث پاکستان کے صدر علامہ ڈاکٹر ہشام الٰہی ظہیر نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور حرمین شریفین کا تحفظ پوری امتِ مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس لیے سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے حملے فوری طور پر بند کرائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی امن کے تحفظ کے لیے پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں بالخصوص فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر كی ذاتی دلچسپی قابلِ تحسین ہیں اور مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، دفاعی تعاون اور مشترکہ حکمتِ عملی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں جمعیت اہلِ حدیث پاکستان کی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سرپرست قاضی عبد القدیر خاموش، سینئر نائب امیر مولانا فضل الرحمن مدنی، نائب صدر ڈاکٹر ابوبکر صدیق، نائب صدر حافظ عبد الباسط ڈار ، صدر جمعیت اہلِ حدیث پاکستان حافظ نعیم الرحمن اور رابطہ سیکریٹری قاری شفیق الرحمن ربانی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔تہران ملاقات اور ایران سے مطالبہ: علامہ ڈاکٹر ہشام الٰہی ظہیر نے 26 اکتوبر کو تہران میں ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے اخلاص کے ساتھ اپنا سفارتی فرض ادا کیا ہے۔ اب ایران کو چاہیے کہ وہ ان مخلصانہ کوششوں اور سعودی عرب کے تحمل کی قدر کرتے ہوئے حوثی ملیشیا کے ذریعے سعودی عرب کے خلاف جاری حملے فوری طور پر رکوائے۔ سعودی عرب کے صبر اور ذمہ داری کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ حملے بند ہوں، ممالک کی خودمختاری کا احترام کیا جائے ۔مصر، فلسطین اور مسلم دنیا کا اتحاد: سرپرست قاضی عبد القدیر خاموش رہنماؤں سعودی عرب کی سلامتی کے لیے مصر کے تعاون کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی مدد کے لیے مصری پارلیمان کی اجازت کو حوثی رہنماؤں کی جانب سے اعلانِ جنگ قرار دینا ان كے بزدلانہ موقف كی عكاسی كرتا ہے، جبکہ قاہرہ کا مؤقف سعودی عرب کے دفاع اور علاقائی خودمختاری کے تحفظ تک محدود ہے۔ انہوں پاكستانی عوام كی جانب نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے، شہریوں کے تحفظ اور بلاتعطل امداد کی فراہمی کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اسلامی ممالک کے درمیان سفارتی تعاون کو مزیدمضبوط كرنے کی ضرورت پر زور دیا۔حوثی ملیشیا کی کارروائیاں اور علاقائی امن: ینئر نائب وامير صوبه خیبر پختونخوا مولانا فضل الرحمن مدنی نے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ دینی، تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیرِاعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی عالمِ اسلام کے لیے خدمات اور حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مشترکہ دینی وابستگی، باہمی اعتماد اور اخوت کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔ پاکستانی قوم سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے معاملے میں اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور پاکستان کا بچہ بچہ سعودی عرب کی حمایت کرتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن مدنی نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے حوثی ملیشیا کی ان کارروائیوں کی پُرزور مذمت کی جو سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں۔ اتفاقِ مکہ برائے مشترکہ دفاع اور بدر مفاہمت: نائب صدر ڈاكٹر ابوبكر صدیق نے اتفاقِ مکہ برائے مشترکہ دفاع کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اجتماعی سلامتی اور دفاعی تعاون کی اہم بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 7 اگست 2026ء کو طے پانے والا یہ معاہدہ مشترکہ دفاع اور باہمی تعاون کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح 21 اکتوبر کو قطر میں پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان طے پانے والی بدر مفاہمت دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی، تربیت اور مشترکہ پیداوار میں تعاون کے فروغ کی جانب اہم قدم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی سلامتی پوری امتِ مسلمہ کا مشترکہ دینی و ایمانی معاملہ ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اور وزارتِ خارجہ کی جانب سے ارضِ حرمین کی سلامتی اور علاقائی استحکام کے مؤقف کی ہم بھرپور تائید کرتے ہیں ۔ مدارسِ دینیہ اور مقدس شخصیات کی حرمت: صوبہ پنجاب كے صدر مولانا نعیم الرحمن شخوپوری نے مدارسِ دینیہ کے تحفظ، دینی تعلیم کے فروغ اور مذہبی اداروں کو آئینی و قانونی تحفظ فراہم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ شعائرِ اسلام، صحابۂ کرامؓ، امہات المؤمنینؓ، اہلِ بیتؓ اور دیگر مقدس شخصیات کی حرمت کا احترام یقینی بنایا جائے۔ توہین یا حرمت پامال کرنے کے واقعات پر قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ علماء، مذہبی جماعتوں اور ریاستی اداروں کو فرقہ واریت اور مذہبی نفرت کے خاتمے کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ اختلافات کو تشدد کے بجائے قرآن و سنت، دلیل، علمی مکالمے اور باہمی احترام کے ذریعے حل کیا جائے۔قومی ترقی، سیاسی مفاہمت اور داخلی استحکام: علامہ ڈاکٹر ہشام الٰہی ظہیر نے کہا کہ حکومت پاکستان کی معاشی و سماجی ترقی کے لیے مؤثر اقدامات کرے، مہنگائی اور بے روزگاری کے مسائل پر توجہ دے، تعلیم و صحت کی سہولتیں بہتر بنائے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اختیار کرے۔ سیاسی قیادت سے اپیل کی گئی کہ محاذ آرائی كی بجائے قومی مفادات پر اتفاقِ رائے پیدا کرے ۔ نوجوانوں کی دینی، اخلاقی اور فکری تربیت اور ان کے لیے معیاری تعلیم و روزگار کے مواقع بڑھانا بھی ضروری ہے۔ گمراہ کن پروپیگنڈے، نفرت انگیزی اور تشدد پر اکسانے کی مذمت کرتے ہوئے قانون شکنی کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔پریس کانفرنس میں جمعیت اہلِ حدیث پاکستان كے رہنماؤں نے پاکستان کے استحکام، سعودی عرب اور حرمین شریفین کی سلامتی، مسلم دنیا کے اتحاد، یمن میں پائیدار امن، فلسطینی عوام کے جائز حقوق، مدارسِ دینیہ کے تحفظ اور شعائرِ اسلام کی حرمت کے لیے اپنی دینی، علمی اور قومی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ جمعیت نے حکومت سے داخلی ترقی اور امن و امان کے لیے عملی اقدامات، سیاسی قیادت سے قومی مفاہمت، اور تمام مذہبی و سماجی حلقوں سے فرقہ واریت کے خاتمے اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔











