اتوار,  03 مئی 2026ء
داعظم یونیورسٹی طلباء کا احتجاج، قائم مقام وی سی کی فوری برطرفی کا مطالبہ

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) قائداعظم یونیورسٹی طلباء کا احتجاج،قائم مقام وی سی کی فوری برطرفی اور نئے مستقل وی سی کی تقرری کا مطالبہ، طلباء کے جائز مسائل کو حل کیا جائے،سندھی اجرک کی توہین قطعاََ قبول نہیں، یہ صرف اجرک کی نہیں بلکہ سندھی ثقافت کی توہین ہے، قائم مقام وی سی کی تبدیلی تک احتجاج جاری رہے گا،تفصیلات کے مطابق قائد اعظم یونیورسٹی کے طلباء مہران سٹوڈنٹس کونسل کے چیئرمین غلام سرور زرداری، پختون سٹوڈنٹس کونسل کے چیئرمین ریان خان تریالے، پنجاب سٹوڈنٹس کونسل کے چیئرمین زین بسرا، اور سرائیکی سٹوڈنٹس کونسل کے چیئرمین ذیشان جتوئی نےایک پریس کانفرنس میں یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر جسپال پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قائم مقام وی سی کی جانب سے مبینہ طور پر طلباء کے مسائل حل نہ کرنے کیخلاف احتجاج کے دوران مہران سٹوڈنٹس کونسل کے چیئرمین غلام سرور زرداری کے گلے میں پڑی سندھ کی ثقافت کی پہچان روایتی اجرک کو کھنچ کر زمین پر دے مارا، پولیس کو بلا کر طلباء کو ہراساں کیا گیا جس سے سٹوڈنٹس میں شدید اشتعال پیدا ہوگیا اوریونیورسٹی کے ہزاروں سٹوڈنٹس نے قائم مقام وی سی کیخلاف شدید احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر ظفر جسپال کو فوری طور پر عہدے سے سبکدوش کرکے کسی اہل اور مستقل وی سی کی تقرری کی جائے کیونکہ موجودہ قائم مقائم وی سی ہزاروں ستوڈنٹس کے مسائل کو حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے جس کی وجہ سے سٹوڈنٹس کی ڈگریوں کے اجراء میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے، طلباء نے مزید کہا کہ ہم پر امن لوگ ہیں تاہم ہمارے مسائل حل کرنے کے بجائے ہمارے ساتھ غنڈہ گردی کی جارہی ہے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر مستقل وی سی تعینات کیا جائے تاکہ طلباء کے مسائل حل ہو سکیں۔

مزید خبریں