








شہریاریاں۔۔۔تحریر: شہریار خان کہتے ہیں انسان کو بہت سوچ سمجھ کر بولنا چاہئے۔ چاہے پرچی سے پڑھ کر ہی کیوں نہ بولے، ورنہ پھر یہی ہوتا ہے کہ آپ ایک بات کریں۔۔ کسی کا تمسخر اڑائیں، کل کو آپ خود اس پوزیشن میں آئیں تو پھر آپ کی باتیں آپ

آج دنیا جس حقیقت کو سمجھنے اور تسلیم کرنے کی طرف بڑھ چکی ہے۔ ان حقائق کو چھپانے کیلئے خود غرض اور مفاد پرست حکمران سات پردوں کے پیچھے چھپانے میں سالہا سال سے لگے تھے۔ جس کیلئے وہ مختلف طریقوں کو استعمال کرتے رہے۔ پوری دنیا پر حکمرانی کے

تحریر: علی شیر خان محسود پاکستانی قوم کا المیہ کہیں یا پاکستانی قوم کی بد قسمتی کہ جب قومی مفاد اور ترقی کیلئے کسی منصوبے پر عمل کیا جاتا ہے، یا کسی ملک کے ساتھ قومی مفاد میں کوئی معاہدہ کیا جاتا ہے۔ تو اس معاہدے پر دستخط کرنے سے

وزیر داخلہ کی ہدایت پر گردوں کی غیر قانونی خرید و فروخت پر ڈی جی پی ہوٹا کی بڑی کارروائی صوبائی وزیر صحت کا پروفیسر ڈاکٹر شہزاد انور کو خراج تحسین پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی اور ایف آئی اے لاہور نے گزشتہ روز گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری

شہریاریاں۔۔ تحریر: شہریار خان دو چار روز سے ہائی کورٹ کے چھ جج صاحبان کے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط کا بہت تذکرہ ہے۔ کچھ لوگوں نے آسمان سر پہ اٹھا رکھا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قیدی نمبر 420 پہ غلط مقدمات

کرنل کی ڈائری سے،تحریر:لیفٹیننٹ کرنل (ر) ابرار خان یہ کورونا وائرس کے وہ دن تھے جب ہم بھی دو دو ہفتوں کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھروں میں محصور ہو کر رہے گئے تھے۔ لوگوں کے کاروبار بری طرح متاثر ہو چکے تھے۔ کورونا وائرس سے جنم لینے والے

عالم اسلام کے اتحاد اور یکجہتی موجودہ اور مستقبل کے حالات کے تناظر میں ایک ضرورت اور وقت کا تقاضہ بھی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ دنیا میں اقوام عالم کے ترجیحات بدلتے رہتے ہیں۔ کمزور کو طاقتور اور طاقتور مزید طاقتور بننے کی تگ و دو میں مصروف رہتے

تحریر:سید شہریار احمد سینیئر تجزیہ کار اور نیوز اینکر سید شہریار ایڈوکیٹ کی طرف سے معروف میڈیا پرسنز، شعراء، مختلف مذاہب کے ممتاز افراد کے لیے افطاری کا اہتمام کیا گیا یہ افطاری ایک بین المذاہب ہم اہنگی کا منہ بولتا ثبوت تھی کہ مسلمان ہر مذہب کے پیروکار کو

شہریاریاں۔۔۔ تحریر: شہریار خان ویسے تو آج کل کوئی بھی خبر اچھی نہیں ہوتی لیکن کچھ خبریں ایسی ہوتی ہیں کہ ہزار تکالیف کے باوجود ہنسی آ ہی جاتی ہے۔۔ صوبہ سندھ کے وزیر شرجیل انعام میمن نے پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے اعلان کیا کہ صوبائی حکومت

جب ہم پاکستان کے ماضی، حال اور مستقبل پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کے کچھ حالات خود پیدا کردہ اور کچھ بیرونی سازش کے طور پر صاف نظر آتے ہیں۔کہ پاکستان کے کچھ پالیسی سازوں نے درست سمت کا تعین نہ کرکے ملک کو