منگل,  16 اپریل 2024ء
پاکستانی قوم کا المیہ!

تحریر: علی شیر خان محسود

پاکستانی قوم کا المیہ کہیں یا پاکستانی قوم کی بد قسمتی کہ جب قومی مفاد اور ترقی کیلئے کسی منصوبے پر عمل کیا جاتا ہے، یا کسی ملک کے ساتھ قومی مفاد میں کوئی معاہدہ کیا جاتا ہے۔ تو اس معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے ایسے واقعات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جس سے مالی اور جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا پھر منصوبے پر عملدرآمد کرتے ہی شیطان کی آنت کی طرح رکاوٹوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جس کے سر پیر کا کسی کو پتہ نہیں چلتا ہے۔ ان رکاوٹوں کے خاتمے کا کوئی خاطر خواہ ذریعہ نظر آتا ہے۔ جبکہ دنیاوی اصول ہے۔ کہ اجتماعی یا انفرادی طور پر ہمیشہ اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جس سے ذاتی یا اجتماعی فائدہ پہنچ رہا ہو۔ اسی طرح انفرادی یا اجتماعی طور اس کام کو روکنے یا روکوا ے کیلئے ہر ممکن طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔ جس سے نقصان کا احتمال ہو ۔ اس تناظر میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے قومی سطح پر شروع کئے جانے والے منصوبوں سے کن دست و دشمن ممالک کو نقصان پہنچنے یا پاکستان کے معاشی استحکام کیلئے سود مند ثابت ہو سکتے ہیں جو پاکستان دشمن قوتوں کیلئے نا قابل برداشت ہوتے ہیں۔ جنکو یا تو تعطل کا شکار کرنے کیلئے مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں یا عملی طور ہر دہشتگردی کرکے ان کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا مختصر سا جائزہ لیتے ہیں۔ جب صدر آصف علی ذرداری نے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن بچھانے کے منصوبے کےمعایدے پر تہران میں دستخط کرنے تھے تو کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے کئی افراد کو دھماکے میں شہید کیا گیا۔ جن کا تعلق اہل تشیع کے مسلک سے تھا۔ اس خونی کھیل کا مقصد دشمن کے پیش نظر یہ تھا کہ ایرانی حکومت پاکستان میں اہل تشیع کی شہادت پر طیش میں آکر گیس پائپ لائن منصوبے کے معاہدے سے انکار کرلیگی۔ لیکن کمال دانشمندی سے ایران نے اس کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا ۔ اور معاہدے پر دستخط کردئے۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ایران نے معاہدے کے مطابق اپنی سرحد تک گیس پائپ لائن بچھا دی ۔ جبکہ پاکستان میں سیاسی اور بین الاقوامی حالات اور دباؤ کی وجہ سے گیس پائپ لائن بچھانے پر کام شروع نہ ہو سکا۔ حالانکہ پاکستان کو گیس کی فراہمی کی شدید ضرورت تھی اور آج بھی ہے۔ پاکستان اندرونی مصلحتوں کا شکار اور بین الاقوامی حالات کے دباؤ سے دو چار نہ جائے رفتن اور نہ پائے ماندن کے مصداق، عجیب کشمکش میں مبتلا رہا۔ بالآخر ایک بار پھر سے پاکستان نے جب ایران کے ساتھ معاہدے کے مطابق گیس پائپ لائن بچھانے کے منصوبے پر کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ تو گوادر، پنجگور اور تربت میں دہشتگردی کے واقعات تواتر سے شروع ہونے ۔ ایسا لگتا ہے کہ دہشتگرد گروہ صرف پاکستان و ایران کے مابین گیس پائپ لائن بچھانے کے منصوبے کے خلاف ہیں۔ جو موقع و مناسبت سے اس کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔حالانکہ اس سے پہلے ایرانی حکومت سے انھی راستوں پر تربت اور گوادر میں بجلی کی فراہمی کیلئے لائن بچھائی گئی تھی۔ جس میں دہشتگرد گروہ نے کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نھیں کی۔ اور نھی کسی جگہ دہشتگردی کا واقعہ رونما ہوا۔ جو اپنی جگہ ایک اہم سوالیہ نشان ہے۔ دوسری طرف بلوچستان کے عوام اپنے صوبے کی ترقی چاہتے ہیں تاکہ وھاں کے عوام کو روز گار ملے۔ ان کو معاشی ضروریات پوری کرنے کیلئے ترقیاتی کاموں کے بدولت مواقع میسر آتے ہیں جنہیں یہ ادراک ہے اور انکا دیرینہ جائز مطالبہ بھی ہے۔ اسی طرح پاکستان نے جب سے سی پیک منصوبے پر کام شروع کیا ہے۔ پاکستان پر بین الاقوامی دباؤ میں مزید اضافہ کیا گیا۔ جس کا اندازہ پاکستانی حکمرانوں کو بخوبی ہے۔ کہ اس منصوبے کے مخالف ممالک ہر قسم کے تاخیری ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں ۔ کبھی معاشی و سیاسی مسائل اور کبھی دہشتگردی کے واقعات سے ۔ جس سے سی پیک کے منصوبے پر کام بار بار تعطل کا شکار رہا ہے۔ بلکہ ایک وقت ایسا آیا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ سی پیک منصوبے کو مکمل طور پر پیک کردیا گیا ہے۔ کیونکہ داسو ڈیم کی تعمیر پر کام کرنے والے چائنیز انجینیئرز کے ایک کوسٹر کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔۔جس کی وجہ سے کام مکمل طور پر بند ہو چکا تھا۔ اسی طرح گوادر میں بھی چائنیز انجینئرز پر دہشتگردانہ حملے کئے گئے۔ جس کی وجہ سے کام بند کرنا پڑا تھا۔ دو تین سال تعطل کے بعد موجودہ حکومت نے جب سی پیک منصوبے پر کام شروع کرکے تیز کرنے کا ارادہ کیا تو بشام کے قریب ایک بار پھر سے چائنیز انجینئرز کے کوسٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ جس میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔ پاک چین دوستی کو نقصان پہنچانے کی پوری کوشش کی گئی ۔ تاکہ سی پیک منصوبے کو تعطل کا شکار رکھا جا سکے۔ ان بزدلانہ کارروائیوں سے نہ حکومت پاکستان سی پیک منصوبے سے دستبردار ہوگا، اور نہ چین دل برداشتہ ہوگا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان اہم قومی مفادات کے حامل منصوبوں کے خلاف کون سے ممالک ہیں۔ جنکے مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے اس میں سر فہرست بھارت ہے۔ جس نے کئی بار اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور دوسرا امریکہ۔ کیونکہ امریکہ نے بھی سی پیک او ر پاک ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے پر نا پسندیدگی کا اظہار کیا تھا آج بھی کر رہا ہے جسکی وجہ چین اور امریکہ کے مابین دفاعی اور معاشی رسہ کشی۔ اسی طرح ایران امریکی چپقلش۔ جس کی وجہ سے امریکہ نے ایران پر معاشی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ اس سلسلے میں سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا بیان نہایت معنی خیز ہے کہ جب پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ امریکہ ایک طرف ایران پر معاشی پابندیاں لگا رہا ہے اور دوسری طرف پاکستان ایران کے گیس پائپ لائن بچھانے کا معاہدہ کر رہا ہے۔ تو ہلیری کلنٹن ے معنی خیز مسکراہٹ سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کیسے پاکستان اس منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ بھارت جو امریکہ کا سول ایٹمی ٹیکنالوجی سمیت کئ دفاعی اور معاشی منصوبوں کا پارٹنر بھی ہے۔ ان دونوں ممالک کا مشترکہ مفاد اور منصوبہ ایک طرف پاکستان و چین اور ایران کے ان تمام منصوبوں پر اثرانداز ہونے کی پوری کوشش ہوتی ہے۔ جو ان دونوں ملکوں کے معاشی اور دفاعی فائدے کے حصول کا سبب بنتے ہوں۔ دوسری طرف پاکستان کو بھی وہ اپنا زیر تسلط معاشی اور سیاسی عدم استحکام کے ذریعے بآسانی رکھنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ جبکہ پاکستانی حکمران دونوں منصوبوں کے تکمیل میں رکاوٹیں اور مسائل پیدا کرنے کی زمہ داری افغان حکومت اور بلوچستان کے بلوچ لبریشن آرمی ہر ڈال رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغانستان میں چینی حکومت کئ ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ جس پر اربوں ڈالرز خرچ کئے جا رہے ہیں۔ اسی طرح سی پیک منصوبے پر چینی حکومت اربوں ڈالر ز خرچ کر رہی ہے۔ افغان حکومت کو سی پیک منصوبے سے کوئ نقصان نھیں ہے جبکہ فائدہ یہ کہ سی پیک کے راستے سوات دیر کے راستے چائنہ سے افغانستان کے صوبے کو سامان کی ترسیل میں آسانی ہوگی۔ جبکہ سی پیک کے روڈ سے بری و بحری راستے سے بھی افغانستان کو سامان کی ترسیل میں آسانی ہوگی ۔ تو وہ دو طرح کے فائدے کی بجائے نقصان اٹھا کر پاکستان میں دہشتگردی کی کار روائیوں میں مدد کیوں فراہم کرینگے ۔۔۔؟ اسی طرح بلوچستان کے لوگ وھاں اپنے صوبے میں ترقیاتی کاموں پر خوش ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کو دہشتگردانہ کارروائیوں سے خراب کیوں کرینگے جس سے ان کا مالی اور جانی نقصان ہو تا ہے۔ جبکہ بلوچستان کے انھی علاقوں کے عوام کے تجارت کا دارومدار ایران پر ہے۔ کیونکہ انکے ایران کے ساتھ صدیوں پرانے باہمی تجارتی تعلقات قائم ہیں۔ اور پاکستانی حکمران آج تک ان کو متبادل روزگار یا ذرائع فراہم نھیں کرسکا۔ جسکی وجہ سے وہاں کے لوگ مایوسی کا شکار ہیں۔ اورنساتھ ساتھ سرکاری اہلکاروں کا ان کے ساتھ معاندانہ رویہ بھی قابل غور ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سی پیک اور پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے سے ان تمام لوگوں کا مفاد مشترک ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہر ایک اپنے پاؤں پر کلہاڑی خود مارنے کے احمقانہ کام کرنے کی وجہ سے خود کو معذوری کا شکار کرینگے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے طرز عمل اور رویئے کا از سرنو جائزہ لیں۔ کہ کہیں ہم کسی مغالطے کا شکار تو نھیں ہیں ۔ لہذا آپنے دشمن اور دوست ممالک کے رویئوں پر ایک بار پھر سے نظر ڈالیں ۔ کہ درمیان میں کوئ تیسرا فریق کہیں فایدہ تو نھیں اٹھا رہا۔ جس کو پہچاننے سے قاصر ہیں۔ یا ہم کسی مصلحت کا شکار۔ بظاہر حالات و واقعات کے نتائج ایسے نظر آرہے ہیں جبکہ اندرونی معاملات کے بارے میں پالیسی ساز بہتر جانتے ہیں۔لیکن گدھے کی دم کی طرح چاہے اوپر سے یا نیچے سے پیمائش کریں۔ ڈھائ فٹ کی ہی ہے۔ نقصان پاکستانی قوم و ملک کا ہی ہو رہا ہے۔ جسکا ازالہ اگر آج نہ کیا گیا تو مستقبل میں ناسور کی شکل اختیار کرنے سے روکنے میں بھت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

مزید خبریں

FOLLOW US

Copyright © 2024 Roshan Pakistan News