منگل,  16 اپریل 2024ء
کل جو درست تھا آج غلط کیسے؟

شہریاریاں۔۔ تحریر: شہریار خان

دو چار روز سے ہائی کورٹ کے چھ جج صاحبان کے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط کا بہت تذکرہ ہے۔ کچھ لوگوں نے آسمان سر پہ اٹھا رکھا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قیدی نمبر 420 پہ غلط مقدمات اور ان کو غلط سزائیں دی جا رہی ہیں، کہتے ہیں کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اگر اس کیس کا نوٹس نہیں لیتے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ بھی ان کے ساتھ ہیں جو جج صاحبان پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔


میں یا تو اس وقت دیکھ نہیں پایا کہ ان جج صاحبان نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی ایسی ہی شکایت پر کیا رد عمل دیا تھا یا پھر شاید انہوں نے کوئی رد عمل نہیں دیا؟۔ میں یہ بھی نہیں جان پایا کہ یہ الزامات لگانے کی پاداش میں اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے جب شکایت کرنے والے شوکت عزیز صدیقی کو ہی عہدے سے ہٹا دیا تھا تو ان ساتھی ججز نے کیا کہا تھا؟


کیا کسی ساتھی جج نے اس وقت یہ کہا تھا کہ رات گئے دیر تک کہیں سے لکھے آئے فیصلے کیوں پڑھ کے سنانا پڑتے ہیں؟۔ کیا ایسا کسی نے لکھا کہ ثاقب نثار صاحب، آپ نے شکایت کرنے والے کو ہی جج کے منصب سے ہٹا دیا یہ فیصلہ غلط ہے؟۔ جس جج کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ بننا تھا اسے غلط فیصلے کے ذریعے ہٹائے جانے پر ان کے جونیئر جج صاحبان نے کوئی آواز بلند کی تھی؟


آواز اس وقت بلند نہیں ہوئی، شوکت عزیز صدیقی کو سزا دے دی گئی، نواز شریف کو سزا دے دی گئی، مریم نواز کو جیل بھیج دیا گیا۔ کیپٹن صفدر، حنیف عباسی، انجینئر قمر الاسلام، خواجہ سعد رفیق، خواجہ سلمان رفیق تو سب ایک جماعت سے تھے ان سب کو سزائیں ملتی تھیں کسی جج کا ضمیر جاگا تھا؟۔ اس کے علاوہ خورشید شاہ، آصف زرداری کی بہنیں انہیں بھی جیل بھیجا جاتا تھا اور ریمانڈ اتنا طویل ہوتا کہ شاید سزا بھی اتنی نہ بنتی ہو، ضمانت کی درخواستیں پہلے روز ہی خارج ہو جاتی تھیں۔۔ کوئی بھی خط نہیں لکھ پایا۔


آج قیدی نمبر 420 کو جیل میں تمام سہولیات میسر ہیں، بڑی سی بیرک ہے جس میں باپردہ ٹائلٹ بھی ہے جس میں سینیٹری کا تمام سامان امپورٹڈ ہے، وہاں اس قیدی کو کسی بڑے جم کی تمام سہولیات بھی دی گئی ہیں۔۔ اسے دیسی مرغ اور مٹن مل رہا ہے پھر بھی اس کے چاہنے والے کہتے ہیں کہ وہ باہر نہیں بھاگ گیا۔


ان کی خدمت میں عرض ہے کہ جن لیڈرز کی مثال آپ دیتے ہیں وہ سترہ ماہ جیل میں رہے، دیسی مرغ، مٹن اور جم سمیت ان تمام سہولیات کے ساتھ آپ کا قیدی نمبر چار سو بیس ابھی صرف چھ ماہ سے جیل میں ہے، آپ کے اپنے ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر یاسمین راشد جیسے ڈاکٹرز نے ان کی رپورٹس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بیرون ملک علاج کے لیے بھیجا جائے۔


کل تک ان ثاقب نثاری عدالتوں سے فیضی فیصلوں پر آپ خوشی سے پریس کانفرنس کیا کرتے تھے۔۔ اگر کل ان عدالتوں سے ملی سزائیں درست تھیں تو آج غلط کیسے ہو گئیں؟۔ اگر نواز شریف اور مریم نواز کو ملنے والی سزائیں درست تھیں، تو پھر عمران خان کو ملنے والی سزائیں غلط کیسے ہیں؟


شوکت عزیز صدیقی پر ڈالے جانے والا بیان غلط تھا تو آج کے چھ جج صاحبان کا خط کیسے مقدس ہو گیا؟۔اگر کل تک شوکت عزیز صدیقی کو ملنے والی سزا ٹھیک تھی، ان کے ساتھ ان کے ساتھی جج صاحبان کا سوشل بائیکاٹ درست تھا تو آج ان چھ جج صاحبان کا سوشل بائیکاٹ بھی ہونا چاہیئے یا نہیں؟


دوسری چیز یہ کہ جج صاحبان کے احتساب کا اختیار تو سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے مگر ایجنسیوں کے خلاف شکایات سپریم جوڈیشل کونسل بھیجے جانے کا کیا مقصد تھا؟۔ کیا جج صاحبان اپنے اوپر دباؤ ڈالنے والے افسران کو عدالت میں طلب نہیں کر سکتے؟۔ کسی ڈپٹی کمشنر، کسی آئی جی یا کسی ایس ایس پی کو تو آپ عدالت بلا کر ذلیل کرتے ہیں، ان کو توہین عدالت کے چکر میں عدالتوں کے پھیرے لگواتے ہیں، آپ کی مرضی ہے کہیں آپ مجرمان کو گڈ ٹو سی یو کہیں یاکسی کو سزا دے کر سپروائزر بھی جج لگا دیں۔


چند برس گزرے ہیں، ایسے ہی ایک جج شوکت عزیز صدیقی نے نواز شریف کے کیسوں کے حوالہ سے بار روم میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان پر دباؤ ہے، اس کے بعد ہوا کیا تھا؟۔ ہوا یہ کہ بار ایسوسی ایشن نے اس تقریر سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی کہتے ہیں کہ انہوں نے نہیں سوچا تھا کہ انہیں ہٹائے جانے کے بعد ان کے ساتھی ججز ان کے ساتھ قطع تعلق کر لیں گے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی بیٹی کی شادی تھی انہوں نے تمام جج صاحبان کو دعوت دی مگر تمام جج صاحبان نے ان کا سوشل بائیکاٹ کر رکھا تھا۔۔ کوئی بھی ان کے ساتھ ملنے کے لیے تیار نہیں تھا۔


یہی جج صاحبان جنہوں نے شوکت عزیز صدیقی کے جج نہ رہنے پر ترقی پائی تھی، انہوں نے کبھی اس ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھائی تھی۔ انہیں اکیلے ہی یہ جنگ لڑنا پڑی۔ اس کیس کے فیصلے میں اتنی تاخیر کی گئی کہ اب ان کی بحالی ممکن نہیں رہی، اس لیے تاخیر سے ہونے والے انصاف میں انہیں صرف مراعات ملنے کا فیصلہ ہوا ہے ورنہ اس وقت شوکت عزیز صدیقی بھی سپریم کورٹ کے جج ہوتے۔


آج جو کہہ رہے ہیں کہ یہ چارج شیٹ ہے وہ بھول گئے کہ کل ایسی ہی ایک چارج شیٹ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے بھی دی تھی، جسے تم جھٹلاتے تھے۔ آج بھی انہیں ماضی میں ہونے والے فیصلوں پر کوئی اعتراض نہیں۔ انہیں بھٹو اور نواز شریف کو ملنے والی سزاؤں سے مسئلہ نہیں ہے۔


یہ آج بھی یہ مانتے ہیں کہ بھٹو کو ملنے والی سزا درست تھی، یہ نواز شریف، مریم نواز سمیت مختلف سیاستدانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو بالکل جائز قرار دیتے ہیں مگر انہیں غم صرف قیدی نمبر 420 کا ہے۔۔ یہ سمجھنا ہو گا کہ اس طرح کی ناانصافی کی بات صرف اپنے حوالہ سے کریں گے تو درست نہیں ہو گا۔ اگر بھٹو اور نواز شریف کے ساتھ جو ہوا درست ہوا تو پھر آپ کے ساتھ بھی درست ہو رہا ہے۔ اگر شوکت عزیز صدیقی کے ساتھ درست ہوا تو پھر آج چھ جج صاحبان کے ساتھ بھی جو ہو رہا ہے وہ درست ہو رہا ہے۔


بات شروع کرنی ہے تو ماضی کی غلطیوں کو بھی مان کر آگے بڑھیں۔۔ اگر کل جو ہوا وہ غلط نہیں تھا تو پھر آج جو ہو رہا ہے وہ بھی غلط نہیں ہو سکتا۔

مزید خبریں

FOLLOW US

Copyright © 2024 Roshan Pakistan News