اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ترجمان سے ایک شہری نے سوال کیا کہ نادرا ریکارڈ موجود ہونے کے باوجود شہری کو مشتبہ کیٹیگری میں ڈالنے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں؟
اس سوال کے جواب میں ترجمان نادرا سید شباہت علی نے بتایا کہ کے ریکارڈ میں کسی شہری کا ڈیٹا موجود ہونے کے باوجود بعض حالات میں اسے مشتبہ کیٹیگری میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کی بنیادی وجہ ریکارڈ میں موجود تضادات یا ایسی معلومات ہوسکتی ہیں جن سے شہری کے شناختی ریکارڈ کی درستگی پر سوال پیدا ہو۔
نادراترجمان کے مطابق بعض کیسز میں ریکارڈ کا جائزہ لینے کے دوران ایسی غیر مستقل یا متضاد معلومات سامنے آتی ہیں جن سے یہ شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ کسی فرد نے اپنا ریکارڈ درست طریقے سے حاصل نہیں کیا یا اس میں کسی مرحلے پر ایسی تبدیلی ہوئی ہے جو دستیاب معلومات سے مطابقت نہیں رکھتی۔
حکام کے مطابق بعض اوقات کسی شہری کا ریکارڈ ایسے خاندان کے افراد کے ساتھ منسلک پایا جاتا ہے جن سے اس کا تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
ریکارڈ کے باوجود نادرا درخواست کی جانچ پڑتال میں وقت کیوں لگتا ہے؟
ایسی صورت میں متعلقہ خاندان کے افراد خود نادرا کو درخواست دے سکتے ہیں کہ ان کی فیملی ٹری میں ایک ایسے شخص کو شامل کردیا گیا ہے جسے وہ جانتے تک نہیں۔
حکام کے مطابق مشتبہ کیٹیگری میں شامل ہونا لازماً اس بات کا حتمی فیصلہ نہیں ہوتا کہ شہری کا شناختی ریکارڈ غلط ہے، بلکہ بعض معاملات میں ریکارڈ میں موجود تضادات کی مزید جانچ اور وضاحت کے لیے کارروائی کی جاتی ہے۔











