اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی امور کا اجلاس ہوا، جس میں مختلف قانونی اور انتظامی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے مختلف قوانین میں مجوزہ ترامیم اور دیگر انتظامی امور پر غور کیا گیا۔ کمیٹی نے متعلقہ وزارتوں کو ضروری ترامیم اور سفارشات شامل کرنے کی ہدایت کردی۔
کمیٹی نے ایف آئی اے ایکٹ 1974 میں مجوزہ ترامیم کو اپنی سفارشات اور ضروری ترامیم شامل کرنے سے مشروط کرتے ہوئے منظور کرلیا۔
سندھ اسمبلی میں رینجرز کے اختیارات میں ایک سال توسیع کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اسی طرح پاکستان پینل کوڈ 1860 اور ضابطۂ فوجداری 1898 میں مجوزہ ترامیم بھی ضروری ترامیم اور سفارشات شامل کرنے کی شرط پر منظور کرلی گئیں۔
اجلاس میں سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں مجوزہ ترامیم کی بھی ضروری ترامیم شامل کرنے سے مشروط منظوری دی گئی۔
کمیٹی نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ترمیمی بل 2026 کا معاملہ مزید غور کے لیے موخر کردیا، جبکہ امیگریشن رولز 1979 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دے دی گئی۔
دوسری جانب نیشنل ہائی وے سیفٹی آرڈیننس 2000 کے تحت اوورلوڈنگ پر جرمانوں میں اضافے کی تجویز واپس لے لی گئی۔
اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی گئی کہ منظور شدہ قانونی ترامیم میں کمیٹی کی سفارشات اور ضروری اصلاحات شامل کرکے آئندہ کارروائی مکمل کی جائے۔











