اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) جنوب مشرقی ایشیا میں ’سائبر غلامی‘ کا جال پھیلایا جاچکا ہے، بیورو آف امیگریشن نے پاکستانیوں کو اس طرح کی جعلی ملازمتوں کی پیشکشوں سے خبردار کردیا۔
حکومت نے جنوب مشرقی ایشیا کے بعض ممالک میں انسانی اسمگلنگ اور جبری آن لائن فراڈ کے منظم مراکز کے پھیلاؤ کے پیش نظر بیرونِ ملک ملازمت کے خواہش مند پاکستانیوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
یاد رہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کے بعض ممالک میں انسانی اسمگلنگ اور جبری آن لائن فراڈ کے منظم مراکز تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
جرائم پیشہ گروہ تھائی لینڈ، کمبوڈیا، میانمار، لاؤس اور دیگر ممالک میں کمپیوٹر آپریٹر، کال سینٹر ایجنٹ، کسٹمر سروس، ڈیٹا انٹری، ڈیجیٹل مارکیٹنگ یا آئی ٹی کی پُرکشش ملازمتوں کا جھانسہ دے کر غیر ملکیوں کو جال میں پھنساتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے جاری آگاہی پیغام میں خبردار کیا گیا ہے کہ جرائم پیشہ گروہ پُرکشش ملازمتوں کا جھانسہ دے کر غیر ملکی شہریوں کو ایسے مراکز تک پہنچاتے ہیں جہاں انہیں جبری طور پر آن لائن فراڈ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
پنجاب میں کینسر کے مریضوں کا مفت علاج کیا جائے گا، عظمیٰ بخاری
ایسی ملازمتوں میں عموماً غیر معمولی طور پر زیادہ تنخواہ، مفت فضائی ٹکٹ، رہائش، کھانے اور آسان ویزے کی جعلی پیشکش کی جاتی ہے۔
تاہم منزل پر پہنچنے کے بعد بعض متاثرین کے پاسپورٹ اور موبائل فون قبضے میں لے لیے جاتے ہیں اور انہیں سخت نگرانی والے کمپاؤنڈز میں منتقل کردیا جاتا ہے، جہاں انہیں اپنی مرضی کے خلاف کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
جعلی سرمایہ کاری سے رومانس فراڈ تک
حکومتی آگاہی کے مطابق ان مراکز میں متاثرین سے جعلی آن لائن سرمایہ کاری اور کرپٹو کرنسی اسکیموں، رومانس اور سوشل میڈیا فراڈ، جعلی کال سینٹرز اور کسٹمر سپورٹ کے نام پر دھوکا دہی، بینکوں یا سرکاری اداروں کی نقالی، فِشنگ، شناختی معلومات کی چوری اور جعلی سوشل میڈیا پروفائلز کے ذریعے لوگوں کو لوٹنے جیسے جرائم کروائے جا سکتے ہیں۔
متاثرین کو مالی اہداف پورے کرنے کے لیے دباؤ، دھمکیوں اور تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے، بعض کیسز میں قید، بھوک، جسمانی تشدد، بجلی کے جھٹکوں، جنسی استحصال اور دیگر سنگین زیادتیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ایک گروہ سے دوسرے گروہ کو فروخت کیے جانے کا خطرہ
حکومتی انتباہ میں بتایا گیا ہے کہ ایسے مراکز سے فرار ہونا انتہائی مشکل ہوتا ہے اور بعض متاثرین کو ایک جرائم پیشہ گروہ سے دوسرے گروہ کے ہاتھوں فروخت کیے جانے کا بھی خطرہ رہتا ہے۔
متاثرین کے خاندانوں سے رہائی کے نام پر ہزاروں ڈالر تک تاوان طلب کیا جاتا ہے، تاہم رقم ادا کیے جانے کے باوجود رہائی یقینی نہیں ہوتی۔
جعلی جاب آفر کی پہچان کیسے کریں؟
حکام نے بیرون ملک ملازمت کے خواہش مند افراد کو مشورہ دیا ہے کہ غیر معمولی طور پر زیادہ تنخواہ، کم اہلیت اور بغیر انٹرویو فوری بھرتی کی پیشکش کو خطرے کی علامت سمجھیں۔
ایسی کمپنیوں سے بھی محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے جن کا واضح دفتر، پتہ، قانونی اندراج یا سرکاری ویب سائٹ موجود نہ ہو اور جو صرف واٹس ایپ، ٹیلی گرام یا سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرتی ہوں۔
اسی طرح مفت ٹکٹ، رہائش اور ویزے کی غیر معمولی ضمانت، وزٹ یا ٹورسٹ ویزے پر ملازمت شروع کرنے کا مشورہ، اصل پاسپورٹ کمپنی یا ایجنٹ کے حوالے کرنے کا مطالبہ اور ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد ملازمت یا مقام تبدیل کیے جانے کی صورت میں فوری طور پر محتاط ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
روانگی سے قبل مکمل تصدیق ضروری ہے
حکومت نے بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کو مشورہ دیا ہے کہ سفر سے پہلے کمپنی کا قانونی اندراج، دفتر، ویب سائٹ، فون نمبر اور مالکان کی تفصیلات لازماً چیک کریں۔
ملازمت کا تحریری معاہدہ حاصل کرکے تنخواہ، کام کی نوعیت، رہائش اور کام کی جگہ کی مکمل تفصیلات کی تصدیق کی جائے۔
حکام کے مطابق ملازمت کے لیے صرف درست ورک ویزا پر سفر کیا جائے اور وزٹ، ٹورسٹ یا بزنس ویزے پر ملازمت قبول نہ کی جائے۔
بھرتی کے لیے لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر کا استعمال اور روانگی سے قبل متعلقہ پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس سے قانونی تحفظ حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔
مسافروں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ پاسپورٹ، ویزا، ملازمت کے معاہدے اور ٹکٹ کی نقول اہل خانہ کے پاس رکھیں، سفر، آجر، رہائش اور رابطوں کی مکمل تفصیلات گھر والوں سے شیئر کریں اور متعلقہ پاکستانی سفارت خانے یا قونصل خانے کے رابطہ نمبرز پہلے سے محفوظ کرلیں۔
خطرے کی صورت میں کیا کریں؟
حکومت کے مطابق اگر بیرون ملک پہنچنے کے بعد کسی شخص کا پاسپورٹ چھین لیا جائے، اسے کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیا جائے، سرحد پار لے جانے کی کوشش کی جائے یا غیر قانونی آن لائن سرگرمیوں پر مجبور کیا جائے تو جہاں ممکن ہو فوری طور پر مقامی پولیس اور پاکستانی سفارت خانے یا قونصل خانے سے رابطہ کیا جائے۔
ایسی صورتحال میں اپنی لوکیشن کسی قابلِ اعتماد شخص کو بھیجنے اور جرائم پیشہ افراد کا براہِ راست مقابلہ کرنے سے گریز کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ پُرکشش بیرون ملک جاب آفر ہمیشہ محفوظ یا حقیقی نہیں ہوتی، اس لیے کمپنی، ملازمت اور ورک ویزا کی سرکاری تصدیق کے بغیر سفر نہ کیا جائے۔
انسانی اسمگلنگ یا مشتبہ بھرتی کی اطلاع ایف آئی اے ہیلپ لائن 1991 یا بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کو دی جاسکتی ہے۔











