سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
صاحب ثروت کا مفلس کے لیے لولی پوپ
میری آپ سے گزشتہ رات گفتگو ہو رہی تھی تو آپ فرما رہے تھے کہ دنیا میں ہر شخص خواہ امیر ہو یا غریب، اپنےدکھوں ،مصائب اور تکالیف کا شکار ہے ۔اس لیے ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے ۔
آپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھے کیا پتا کہ جو جتنا امیر ہے اس کو اتنی ہی تکلیفوں کا سامنا ہے۔
جی آپ ایسی باتیں کرتے ہوئے بہت اچھے لگتے ہیں اور اس سے محروم ،مظلوم اور پسے ہونے طبقات کو کچھ دیر کے لیے حوصلہ بھی مل جایا کرتا ہے جس کے لیے میں آپ کا بے حد شکر گزار ہوں کہ بغیر ایک روپیہ خرچ کئے، آپ لوگوں کو مطمئن کر دیا کرتے ہیں۔
اور یاد ہے آپ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ دیکھو سکندر بھی دنیا سے خالی ہاتھ گیا تھا ۔اس نے وصیت کی تھی جب میرا جنازہ اٹھے تو میرے دونوں ہاتھ کفن سے باہر نکال دینا تاکہ دنیا جان سکے کہ پوری دنیا کو فتح کرنے والا سکندر اعظم دنیا سے خالی ہاتھ گیا ۔
واہ کیا خوبصورت بات کی آپ نے، ایسی باتیں ایک بے شعور ،جاہل اور کم پڑھے لکھے شخص کو بہت پرکشش معلوم ہوتی ہیں
لیکن معاف کیجئے گا میں ایسی باتوں سے امپریس نہیں ہوا کرتا ،بالکل بھی متاثر نہیں ہوتا کیونکہ اس دنیا میں جتنے امیر لوگ ہیں وہ غریبوں کو یہی تو لولی پاپ دیا کرتے ہیں کہ امیر تو بہت دکھ بھری زندگی گزار رہے ہیں تمہیں کیا پتا انہیں کیا مصائب ہیں۔
اب اگر آپ زحمت کر کے یہ بھی فرما دیتے ہیں کہ جس طبقے کی آپ نمائندگی کر رہے ہیں انہیں کون سی پریشانیاں اور مصائب درپیش ہیں تاکہ پھر میں ان کا پوسٹ مارٹم کر سکتا ۔
میرا خیال ہے کہیں بھی کسی بھی جگہ، دنیا کی کسی قوم میں، کسی معاشرے، کسی سماج میں دو لوگوں کے مسائل ایک جیسے نہیں ہوتے اس لیے ان کے حالات کا آپس میں موازنہ کرنا بھی میں سمجھتا ہوں کہ قرین انصاف نہیں۔
جناب برا نہ مانیں تو میں اپنا نقطہ نظر پیش کروں؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم جو یہاں پیسہ کمانا چاہتے ہیں، دولت جمع کرنا چاہتے ہیں تو وہ بعد از مرگ روز محشر یا اس کے بعد کی ابدی زندگی کے لیے اکٹھی نہیں کرتے۔
ہم انہیں اکٹھا اس لیے کرتے ہیں کہ اپنی دنیاوی حاجات پوری کر سکیں،
عید شب برات پہ اپنے بچوں کو نئے کپڑوں کو ساتھ کہیں بھیج سکیں۔
اور کبھی کبھار ،اکثر نہ سہی، کبھی کبھار ہی اپنے بچوں کو کسی اچھے ریسٹورنٹ میں کھانا کھلا سکیں ۔
اور کیا ہی اچھی بات ہو کہ گزر بسر کے لیے ایک عام آدمی کے پاس بھی اتنے پیسے ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوا سکے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر وہ خود، اس کے اہل و عیال یا خاندان کے کسی فرد کو بیماری کا سامنا کرنا پڑے تو اسے فورا ایک اچھے ہاسپٹل میں زیر علاج کیا جا سکے
لیکن بھائی آپ کہاں سمجھیں گے یہ باتیں؟
کسی کی کیفیت سمجھنے کے لیے اس کے جوتے میں اپنا پاؤں ڈالنا پڑتا ہے۔
کسی کے حالات اور جذبات کو جاننے کے لیے اس کی کرسی پہ بیٹھ کے دیکھنا پڑتا ہے۔
اب آپ ایسی باتیں کر کے بری ذمہ نہیں ہو سکتے ۔مجھے تو شک ہے آپ جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں کہ غریب، غریب ہی مر جائے۔ میں تو چاہتا ہوں آپ انہیں امیر بننے کے طریقے سکھائیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں۔
اور وہ جو آپ کہہ رہے تھے کہ امیروں کو بھی بہت پریشانیاں ہیں تو وہ پریشانیاں میں جانتا ہوں ۔میرے علم میں ہے حضور، میں نے کہاں انکار کیا ہے کہ امیروں کو دکھ اور پریشانیاں نہیں ہیں۔
صاحب ثروت لوگوں کو پریشانی ہے کہ ان کی دو کوٹھیاں ہیں اور زید اور بکر کی چار تو ان کے بھی تین محلات اور بننے چاہیے ۔
انہیں یہ فکر دامن گیر رہتی ہے کہ اے اور زی کے پاس سوا کروڑ کی گاڑی ہے تو ہمارے پاس ڈیڑھ کروڑ کی کیوں نہیں؟
اگر دوسرے کروڑ پتی کے بچے اعلی معیار کے مدرسے میں پڑھ رہے ہیں تو ہماری اولاد بیرون ملک تعلیم حاصل کرے۔
ایک کے بعد دوسری، دوسری کے بعد تیسری فیکٹری چاہیے آپ لوگوں کو جناب۔
اور ایسی مثال کہ انسان خالی ہاتھ دنیا سے جاتا ہے تو ظاہر ہے کہ مردہ ایک کفن میں لپٹ کی ہی جائے گا نا، اب چھ فٹ لمبی قبر میں اس کی گاڑی اور اس کا بنگلہ تو منتقل نہیں کر سکتے ہم لوگ۔
اور سنیں،اب یہ دنیاوی لذتیں حاصل کرنے کے لیے، کسی کی مالی مدد کرنے کے لیے، کسی بے بس، یتیم و بے سہارا بچوں کی شادی اور تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ،یہاں تک کہ زکوۃ اور حج کے لیے جو کہ آپ کی دینی عبادات ہیں، ان کے لیے بھی ڈھیروں پیسوں کی ضرورت ہے۔
تو معاف کیجئے گا آپ لوگ جو دنیا گھومتے ہیں، ایک ملک سے دوسرے ملک، ایک بر اعظم سے دوسرے بر اعظم، پھر ایسے لوگوں کو، جن کے پاس دو وقت کھانے کی روٹی نہیں ہے ، بچوں کو پہنانے کے لیے جوتے نہیں ہیں، صبر کی تلقین کرتے ہیں تو مجھے بہت کوفت ہوتی ہے۔
آپ ہماری خالہ کے بیٹے ہیں اور میرے بڑے بھائی ہیں اس لیے احتراما عرض کر رہا ہوں
کہ
فٹ پاتھ پہ یا موٹر سائیکل پر اپنے حالات کو رونے سے بہتر ہے کہ
انسان بڑی گاڑی میں بیٹھ کے رولے
اور اس کے آنسو
دنیا کی نظروں سے بھی اوجھل رہیں۔











