اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) رواں سال زمین کو عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی دو دھاری تلوار کا سامنا ہے۔
زہریلی یا گرین ہاؤس کیسز کے اخراج کے باعث موسمیاتی تبدیلیاں زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ کر رہی ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی رجحان ایل نینو کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔
ایل نینو وہ موسمیاتی رجحان ہے جس کے باعث پہلے سے شدید گرمی کا سامنا کرنے والی دنیا کا درجہ حرارت مزید بڑھ جائے گا۔
گرمی کی شدت میں بہت زیادہ اضافہ ہلاکتوں کا باعث بنے گا۔
اقوام متحدہ کے زیرتحت عالمی موسمیاتی ادارے ڈبلیو ایم او کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایل نینو آنے والے مہینوں میں زیادہ مضبوط ہو جائے گا اور اس کی شدت فروری 2027 تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
ڈبلیو ایم او نے بتایا کہ ایل نینو رواں سال کے آخر تک عروج پر ہوگا جبکہ اس کے اثرات 2027 میں بھی محسوس ہوں گے۔
بیان میں بتایا گیا کہ ایل نینو کا آغاز ہوچکا ہے اور آنے والے مہینوں میں اس کی شدت بہت زیادہ بڑھ جائے گی جس سے درجہ حرارت اور بارشوں پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے جس کے باعث سیلاب، خشک سالی اور بہت زیادہ گرمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
ایل نینو اور لانینا کیا ہیں؟
ایل نینو ایک ایسا موسمیاتی رجحان ہے جس کے نتیجے میں بحرالکاہل کے پانی کا بڑا حصہ معمول سے کہیں زیادہ گرم ہوجاتا ہے اور زمین کے مجموعی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
اس کے مقابلے میں لانینا کے دوران بحر الکاہل کا درجہ حرارت کم ہوتا ہے۔
ہر 3 سے 7 سال کے درمیان دنیا کو دونوں کا سامنا ہوتا ہے، عموماً لانینا کا دورانیہ زیادہ ہوتا ہے۔
ایل نینو کے دوران ہوتا کیا ہے؟
مشرقی ہوائیں استوائی بحر الکاہل کی سطح کے گرم پانی کو آسٹریلیا اور انڈونیشیا کی جانب لے جاتی ہیں اور جنوبی امریکا سے دور رکھتی ہیں۔
’’واٹس ایپ بنے گا اب صارف کا بینک‘‘، کب اور کیسے آ رہی ہے یہ تبدیلی؟
اس کے نتیجے میں پانی کی گرم سطح مغربی بحر الکاہل میں جمع ہوتی ہے جبکہ مشرقی بحر الکاہل کا ٹھنڈا پانی گہرائی سے سطح پر آتا ہے۔
مگر ایل نینو کے دوران مشرقی ہوائیں کمزور ہو جاتی ہیں اور گرم پانی پورے بحر الکاہل میں پھیل جاتا ہے۔
اس کے برعکس لانینا کے دوران مشرقی ہوائیں معمول سے زیادہ مضبوط ہوتی ہیں اور مشرقی بحر الکاہل کی سطح زیادہ ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔
ایل نینو عالمی درجہ حرارت میں اضافے پر کس طرح اثر انداز ہوگا؟
سائنسدانوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ زمین میں گرمی کی شدت پہلے ہی خام ایندھن کے استعمال کے باعث اضافہ ہوچکا ہے مگر ایل نینو سے وہ بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔
اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے کہا کہ ایل نینو ہماری آنکھوں کے سامنے ہمیں حیران کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سمندری سطح کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، مجموعی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور دنیا غیرمتوق موسم سے لاحق خطرے کا سامنا کر رہی ہے۔
ایل نینو کی آخری لہر 2023 میں دیکھنے میں آئی تھی جس کے نتیجے میں 2024 دنیا کی تاریخ کا گرم ترین سال قرار پایا تھا۔
اس بار ایل نینو کی شدت رواں سال کے آخر تک عروج پر ہوگی مگر سمندروں سے خارج ہونے والی حرارت سست روی سے فضا میں پہنچے گی اور آنے والے سال کا عالمی درجہ حرارت بڑھا دے گی۔
ڈبلیو ایم او کے مطابق ایل نینو کے اثرات کو ہم دنیا کے مختلف خطوں میں سیلاب اور خشک سالی کی شکل میں دیکھ رہے ہیں اور موسمیاتی رجحان کی شدت بڑھنے پر ان اثرات کی شدت بھی بڑھے گی۔
خیال رہے کہ خام ایندھن اور دیگر سرگرمیوں سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسز میں پھنسنے والی حرارت کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ سمندر جذب کرتا ہے۔
لانینا کے دوران سمندر کی حرارت جذب کرنے والی صلاحیت زیادہ بہتر ہوتی ہے۔
مگر ایل نینو کے دوران سمندر میں جذب ہونے والی حرارت فضا میں خارج ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایل نینو کے دوران عالمی اوسط درجہ حرارت میں 0.2 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ہو جاتا ہے۔
ایل نینو کے اثرات پورے عالمی موسمیاتی نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔
برصغیر میں مون سون کے دوران بارشیں کم ہونے لگتی ہیں، البتہ خشک سالی سے متاثر افریقی خطوں میں زیادہ بارشیں ہو سکتی ہیں۔
ایل نینو سے سمندری طوفانوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے جس سے امریکا، بھارت، بنگلا دیش، جاپان اور کوریا جیسے ممالک متاثر ہو سکتے ہیں۔
ڈبلیو ایم او نے ستمبر سے نومبر کے دوران معمول سے زیادہ درجہ حرارت کی پیشگوئی کی ہے اور ایسا لگ بھگ دنیا کے ہر خطے میں ہوگا۔











