ٹوکیو(روشن پاکستان نیوز) جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے بتایا ہے کہ وہ اپنے گھر میں ایک لال بیگ کو دیکھ کر شاک رہ گئی تھیں مگر جب اسے نکال دیا گیا تو وہ غیرمتوقع طور پر تنہائی محسوس کر رہی ہیں۔
65 سالہ جاپانی وزیراعظم نے گزشتہ دنوں ایکس (ٹوئٹر) پر ٹوکیو میں اپنی سرکاری رہائشگاہ کے حوالے سے مختلف سوالات کے جوابات دیے۔
ایک سوال میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا کبھی انہوں نے سرکاری رہائشگاہ میں کسی بھوت کو دیکھا جن کے بارے میں کافی رپورٹس سامنے آتی ہیں۔
اس کا جواب دیتے ہوئے سانائے تاکائیچی نے کہا کہ ‘نہیں انہوں نے کبھی کسی بھوت کو رہائشگاہ کے ہالز میں نہیں دیکھا، مگر حال ہی میں لال بیگ کو دیکھ کر ضرور چیخنے لگی تھی’۔
انہوں نے اس دلچسپ واقعے کی تفصیلات بھی بتائیں۔
ہاکی ورلڈکپ میں پاکستان کی 16سال بعد پہلی کامیابی، جاپان کو 3-4 سے شکست دیدی
انہوں نے بتایا کہ اراکین پارلیمان کے لیے مختص رہائشگاہ میں انہیں کبھی کسی لال بیگ کا سامنا نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘جب میں وزیراعظم کی سرکاری رہائشگاہ میں منتقل ہوئی تو کھانے کی میز کے نیچے کے فرش کو بہت اچھی طرح صاف کیا، خوراک کے ذرات کو کوڑے میں پھینکا، تو ایک دن جب اچانک ایک لال بیگ میرے پیر کے پاس سے گزرا تو میں شاک رہ گئی’۔
انہوں نے خود تو اس کیڑے کے خلاف کچھ نہیں کیا کیونکہ وہ بچپن سے جاپانی مانگا (کامک بک) فینکس کو پسند کرتی ہیں، جس میں دوبارہ جنم لینے کی تھیم موجود ہے۔
جاپانی وزیراعظم نے بتایا کہ ‘شاید اسی وجہ سے میں نے کبھی بھی کسی کیڑے بشمول لال بیگ کو نہیں مارا’۔
ان کے بقول لال بیگ کو دیکھنے کے بعد انہوں نے سوچا تھا کہ ‘شاید یہ زندگی بھی دوبارہ جنم لینے کے طویل چکر کا حصہ ہو’۔
تو انہوں نے لال بیگ کو گھر کے کمرے میں چھوڑا اور خود چلی گئیں۔
جاپانی وزیراعظم کے مطابق ‘کچھ وقت تک تو میں نے برداشت کیا اور مجھے امید تھی کہ لال بیگ خود ہی کہیں اور چلا جائے گا، مگر جب میں نے اپنی سیکرٹریز کو اس بارے میں بتایا تو وہ خوفزدہ ہوگئیں’۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ‘ان میں سے ایک سیکرٹری نے لال بیگ کے خلاف آپریشن کا انتظام کیا’۔
اس کے بعد جاپانی وزیراعظم نے مزید کسی لال بیگ کو اپنی رہاشگاہ میں نہیں دیکھا، مگر انہوں نے اعتراف کیا کہ ریلیف کے ساتھ ساتھ وہ کسی حد تک اداس بھی ہوگئیں۔
ان کے مطابق ‘میں نے ریلیف محسوس کیا، مگر کچھ تنہائی اور شاید اداسی بھی محسوس کی’۔











