جمعه,  07  اگست 2026ء
پاکستان اسپورٹس بورڈ کے250 ریٹائرڈ ملازمین دو ماہ سے پنشن سے محروم

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے ریٹائرڈ ملازمین نے دو ماہ سے پنشن کی عدم ادائیگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر اور سیکرٹری برائے بین الصوبائی رابطہ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے،پنشنرز کے مطابق پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ریٹائرڈ ملازمین کو گذشتہ دو ماہ سے پنشن کی ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے، ریٹائرڈ ملازمین نے وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ اور سیکرٹری وزارت IPC سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئےگزشتہ دو ماہ کی زیر التواء پنشن فوری ادا کی جائے،آئندہ پنشن کی بروقت، باقاعدہ اور بلا تعطل ادائیگی کو یقینی بنایا جائے،ریٹائرڈ ملازمین کے حقوق، وقار اور فلاح و بہبود کا تحفظ یقینی بنایا جائے، نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے ریٹائرڈ ملازمین کے صدر اعظم ڈارو دیگر کا کہنا تھا کہ پنشنرز کے مطابق پاکستان اسپورٹس بورڈ اپنے ریٹائرڈ ملازمین کو سال 2006 سے باقاعدگی سے پنشن ادا کرتا آ رہا ہےاور گزشتہ تقریباً دو دہائیوں کے دوران آڈیٹر جنرل آف پاکستان (AGP)، وزارت خزانہ اور وزارت بین الصوبائی رابطہ سمیت کسی بھی مجاز ادارے نے اس نظام پر کوئی اعتراض یا منفی ریمارکس نہیں دیے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تسلسل پنشن نظام کی قانونی حیثیت، شفافیت اور مؤثر انتظام کا واضح ثبوت ہے۔پنشنرز نے بتایا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ کے 34ویں بورڈ اجلاس میں وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت کنٹریبیوٹری پنشن اسکیم (Contributory Pension Scheme – CPS) کی منظوری یکم جولائی 2025 سے دی گئی، جس کے تحت حاضر سروس ملازمین کی بنیادی تنخواہ سے 10 فیصد ماہانہ کٹوتی کی جا رہی ہے، جبکہ موجودہ پنشنرز سے بھی مقررہ شرح کے مطابق حصہ وصول کیا جا رہا ہے، جو 72 سال کی عمر مکمل ہونے پر 20 فیصد تک بڑھ جائے گا۔ریٹائرڈ ملازمین کا مؤقف ہے کہ وفاقی حکومت کی واضح پالیسی کے مطابق کنٹریبیوٹری پنشن اسکیم صرف ان ملازمین پر لاگو ہوتی ہے جو یکم جولائی 2024 یا اس کے بعد مستقل بنیادوں پر ملازمت اختیار کریں۔ تاہم، ان کے بقول پاکستان اسپورٹس بورڈ نے اس پالیسی کو سابقہ اثر (Retrospective Effect) کے ساتھ موجودہ پنشنرز پر بھی نافذ کر دیا، جس سے ریٹائرڈ ملازمین میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، کیونکہ وہ اس پالیسی کے نفاذ سے قبل ریٹائر ہو چکے تھے۔پنشنرز کے مطابق صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب وزارت بین الصوبائی رابطہ (IPC) نے تیسری اور چوتھی سہ ماہی کے گرانٹس کو ازسرنو مختص (Re-appropriation) کرتے ہوئے پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) کو فنڈز جاری کیے، جس کے باعث پاکستان اسپورٹس بورڈ مالی دباؤ کا شکار ہو گیا اور گزشتہ دو ماہ سے پنشن کی ادائیگی ممکن نہ رہی۔ریٹائرڈ ملازمین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، علاج معالجے کے اخراجات اور روزمرہ ضروریات کے پیش نظر پنشن کی عدم ادائیگی نے انہیں شدید مالی مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ بیشتر پنشنرز کا گزر بسر مکمل طور پر ماہانہ پنشن پر منحصر ہے۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو منتقل کی گئی رقم بورڈ کی منظوری کے لیے پیش نہیں کی گئی، جبکہ پنشنرز کے فوری مسائل حل کرنے کے بجائے ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسپورٹس بورڈ نے بورڈ کی منظوری کے بغیر ایک پنشن کمیٹی تشکیل دے دی۔ ان کے مطابق بورڈ کے فیصلے میں واضح طور پر صرف یہ ہدایت دی گئی تھی کہ پنشن فنڈ کے قیام کے لیے ایک جامع تجویز تیار کر کے غور و خوض کے لیے بورڈ کے سامنے پیش کی جائے۔پنشنرز کا کہنا ہے کہ موجودہ مالی بحران اور زیر التواء پنشن کی فوری ادائیگی کو یقینی بنانے کے بجائے متبادل انتظامات پر توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کے آئینی اور قانونی حقوق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ریٹائرڈ ملازمین نے وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ اور سیکرٹری وزارت IPC سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئےگزشتہ دو ماہ کی زیر التواء پنشن فوری ادا کریں۔آئندہ پنشن کی بروقت، باقاعدہ اور بلا تعطل ادائیگی کو یقینی بنائیں۔ریٹائرڈ ملازمین کے حقوق، وقار اور فلاح و بہبود کا تحفظ کریں، جنہوں نے پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ذریعے ملک میں کھیلوں کے فروغ اور قومی خدمت کے لیے اپنی زندگی کے کئی عشرے وقف کیے۔پنشنرز نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت ان کے مسائل کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی تاکہ سینئر شہریوں کو مزید مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مزید خبریں