کراچی (روشن پاکستان نیوز) ورکنگ جرنلسٹس فورم (WJF) کے بانی و مرکزی صدر میاں خرم شہزاد، مرکزی جنرل سیکرٹری ساجد احمد، مرکزی چیف آرگنائزر عامر رضا، مجلسِ عاملہ اور فورم کے تمام اراکین نے سماء نیوز کے کیمرہ مین امتیاز پر مبینہ تشدد، ہراساں کرنے، کیمرہ چھیننے اور پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے روکنے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ورکنگ جرنلسٹس فورم کے رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ایک میڈیا ورکر پر حملہ ہے بلکہ آزادیٔ صحافت، آئینِ پاکستان میں دیے گئے بنیادی حقوق اور عوام کے حقِ معلومات پر بھی حملہ تصور کیا جائے گا۔ کسی بھی سیاسی جماعت یا گروہ کے کارکنوں کی جانب سے صحافیوں کو تشدد، دھمکیوں یا دباؤ کے ذریعے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے سے روکنا ناقابلِ قبول ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کارکنان پر لگنے والے ان الزامات کی فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔ اگر تحقیقات میں الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ صحافیوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ وہ خوف و ہراس کے بغیر اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔ ورکنگ جرنلسٹس فورم نے وفاقی و صوبائی حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سندھ حکومت اور ایم کیو ایم پاکستان سمیت متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، متاثرہ کیمرہ مین کو انصاف فراہم کیا جائے اور میڈیا نمائندوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں۔ ان پر حملے درحقیقت سچائی کی آواز دبانے کی کوشش ہیں، جنہیں کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ورکنگ جرنلسٹس فورم آزادیٔ صحافت، صحافیوں کے تحفظ اور ان کے آئینی و قانونی حقوق کے دفاع کے لیے ہر فورم پر اپنی آواز بلند کرتا رہے گا اور اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے صحافتی برادری کے ساتھ کھڑا رہے گا۔











