کراچی (روشن پاکستان نیوز) ‘پرائم منسٹر اپنا گھر پروگرام’ کے تحت تمام نان بینکنگ فنانس کمپنیوں کو باقاعدہ طور پر “فنانشل انسٹی ٹیوشنز” کا درجہ دے دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق حکومت نے ہاؤسنگ سیکٹر کو سپورٹ کرنے کے لیے ایک اور اہم فیصلہ کرلیا، جس کے تحت پرائم منسٹر اپنا گھر پروگرام کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے تمام نان بینکنگ فنانس کمپنیوں کو باقاعدہ طور پر “فنانشل انسٹی ٹیوشنز” (مالیاتی اداروں) کا درجہ دے دیا گیا ہے۔
اس اقدام سے اب یہ کمپنیاں بھی شہریوں کو گھروں کی تعمیر اور خریداری کے لیے سرکاری اسکیم کے تحت فنڈز اور سہولیات فراہم کر سکیں گی۔
ان بینکنگ کمپنیوں کا نیٹ ورک ڈیجیٹل لائنز پر استوار ہے اور یہ دور دراز کے پسماندہ علاقوں تک پھیلا ہوا ہے، جس سے اب گاؤں اور قصبوں کے شہریوں کو بھی اس اسکیم کا براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔
فیس بک میں ایسے فیچر کا اضافہ جو اب تک اس میں دستیاب نہیں تھا
جاری کردہ نئے فریم ورک کے تحت قرضوں کی فراہمی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا شہریوں کو اپنا گھر بنانے کے لیے 1 کروڑ روپے تک کا قرض فراہم کریں گی، ‘اپنا گھر اسکیم’ کے تحت چھوٹے طبقے کے لیے 50 لاکھ روپے تک کا قرض فراہم کر سکیں گی۔
این بی ایف سیز تنہا فنانسنگ کے علاوہ دیگر کمرشل بینکوں اور مالیاتی اداروں کے اشتراک سے بھی شہریوں کو قرضے جاری کریں گی۔











