تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
نہ زمین پھٹی/ نہ آسمان رویا
میں نے دیکھا تنگ سی گلی میں تین سال کا معصوم بچہ اپنی ماں کے پیچھے پیچھے جا رہا ہے،
پھر میں ٹھیک طرح سے دیکھ نہیں پایا کہ وہ موٹر سائیکل جو آندھی کی سی تیزی سے چلا آ رہا تھا اس نے بچے کو ٹکر مار کر ،کئی فٹ دور اچھال دیا اور اسے پیچھے چھوڑ کر خود آ گے نکل گیا۔
میں نے پھر واضح طور پر دیکھا کہ اس کی ماں واپس پلٹی اور اپنے معصوم بچے کو ہلاتی رہی جو غالبا مر چکا تھا ،
وہ چیختی رہی۔
ابھی چند ساعتوں پہلے وہ ننھا منا پھول، جو ان کے گھر کی رونق تھا اور اس کی وجہ سے اس گھر میں بہار تھی اور ابھی تھوڑی دیر بعد اسے قبر میں اتار دیا جائے گا اور ساتھ ہی وہ اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے لیے ایک ایسا دکھ چھوڑ جائے گا جو ان لوگوں کے مرتے دم تک مندمل ہونے والا نہیں ہے۔
خدا ،جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ (وہ 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے) اس وقت کہاں تھا جب وہ معصوم بچہ موٹر سائیکل کی زد میں آیا ۔
میں ایک اور ریل میں دیکھتا ہوں کہ بڑی ہائی وے روڈ پر، سڑک سے ہٹ کر کچے راستے پر، ایک موٹر سائیکل پرنوجوان بیٹھا ہے اور دوسرا اس کے سامنے کھڑا خوش گپیوں میں مصروف ہے ۔
اتنی دیر ہے میں ایک گاڑی جو بس والے کو اوور ٹیک کرتے ہوئے کچے پر اترتی ہے اور چشم زدن میں ان دونوں نوجوانوں کو کئی فٹ ہوا میں اٹھا کر ،کئی گز دور سڑک پر پھینک دیتی ہے۔
ان نوجوانوں کے ماں، باپ! بہن، بھائی جب ان کے چھلے ہوئے جسم،
ٹوٹی ہوئی ہڈیاں
اور پچکے ہوئے بدن دیکھیں گے تو یہ نقشہ، موت تک ان کی آنکھوں سے نہ جائے گا ۔
(70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا) انہیں بچانے کیوں نہ آیا؟
یہ دونوں تو معصوم تھے ۔
ایک اور خبر پر نظر پڑتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ سات سال کی معصوم بچی جو اپنے محلے کی گلی میں دکان پر ٹافیاں لینے گئی تھی اور اسے وہاں جنسی زیادتی ملی،
موت ملی ۔
اس بچی کے ساتھ جنسی تشدد کرنے والے درندے نے بعد میں کند چھری سے اس کا گلا بھی کاٹا ،
اس بچی نے جو اس وقت خدا کی بادشاہت کے بارے میں کچھ نہ جانتی تھی شاید اس نے کتنی چیخ و پکار سے اپنے ماں باپ کو بلایا ہو گا،
کتنا روئی ہوگی،
کتنا گڑگڑائی ہوگی،
اور کتنی معافیاں مانگی ہوں گی۔
( 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا )اس وقت وہاں نہیں تھا۔
کسی دیہات میں ،کھیتوں میں پانچ سالہ بچی کی پرانی لاش ملی تھی۔
فورنزک کرایا گیا تھا تو معلوم ہوا کہ
ایک نہیں ،
دو نہیں،
کم سے کم چار حیوانوں نے اس کے ساتھ درندگی کا مظاہرہ کیا اور اس کے بعد اس کا گلا گھونٹ کر اسے ابدی نیند سلا دیا۔
( 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ) کہاں تھا؟
ہر روز ایسے واقعات ریلز میں، ویڈیوز میں !سوشل میڈیا میں دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں ہمیں اپنے خالق کی مدد کی شدید ضرورت ہوتی ہے لیکن اس وقت وہاں وہ دستیاب نہیں ہوتا ،
نہ زمین پھٹتی ہے اور
نہ ہی آسمان روتا ہے۔
مجھ سے کسی نے پوچھا تھا کہ ایشور، بھگوان! اللہ کہاں ہے ؟
میں نے اس سے کہا کہ بھائی میں کوئی مولوی، کوئی پنڈت !پروہت نہیں ہوں کہ ایشور سے ، بھگوان سے، اللہ سے ملاقات کرواتا ہوں۔ میں تو خود اسے ڈھونڈ رہا ہوں اگر اس سے تمہاری ملاقات ہو جائے تو مجھے بھی بتا دینا۔
میں تو ابھی تک( 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے کی تلاش میں ہوں)۔
ایک پرانا قصہ ہے،
کہتے ہیں ایک شخص خدا کی تلاش میں کئی سال شہروں شہروں، گاؤں گاؤں !جنگلوں، بیابانوں میں پھرتا رہا
لیکن اسے کہیں خدا کے نشان نظر نہ آئے ۔
ایک بار اسے معلوم ہوا کہ خدا کسی دشوار گزار مقام پر ایک بہت بڑے قلعے میں رہتا ہے۔
یہ شخص کئی ماہ کی مسافت کے بعد خدا کے دروازے پر پہنچا جہاں اس کا ایڈریس اور خدا کا نام کندہ تھا ۔
اس شخص نے دروازہ کھٹکانے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ اس کے دماغ میں یہ سوچ اٹھی کہ اگر میں نے آج اپنے خدا سے مل لیا تو پھر میری تلاش ختم ہو جائے گی۔ پھر میں کیا کروں گا؟ میری زندگی کا مقصد ختم ہو جائے گا۔
میری کوئی خواہش نہیں رہے گی۔
کسی سے ملنے کی چاہ نہیں رہے گی ۔
تو اگر انسان کی کوئی خواہش، کوئی مقصد !کوئی منزل نہ رہے تو اس کے جینے کا کیا فائدہ؟
اس شخص نے دروازہ نہیں کھٹکھٹایا اور دبے پاؤں واپس چلا آیا
کیونکہ جو مزہ اپنی منزل کے پیچھے بھاگنے میں،
اس کو تلاش کرنے میں،
اس کو پا لینے کی امید میں ہے وہ وہاں پہنچ کر اسے حاصل کرنے میں نہیں۔
اس لیے اے میرے بڑھنے والو،
تم بھی خدا تک پہنچنے کی بجائے، صرف اس کی تلاش جاری رکھو۔











