جمعه,  03 جولائی 2026ء
کسی کے ہاتھ نہ آئے گی یہ لڑکی
سمجھوتہ غموں سے کر لو/ زندگی میں غم ہی ملتے ہیں

 تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

کسی کے ہاتھ نہ آئے گی یہ لڑکی۔

آپ لوگوں کے لیے یہ ماننا نہایت مشکل ہوگا، اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ آج بھی ایسی لوگ ہیں جو آپ کے کسی چھوٹے سے کام کرنے پر آپ کے اتنے مشکور ہوتے ہیں کہ پھر وہ آپ کی زندگی کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔

ایسی ہی ایک شخصیت سے میری ملاقات، صحافیوں کے لیے تقسیم اعزازات کی ایک تقریب کے دوران ہوئی۔
میں نے اسے ایوارڈ لیتے ہوئے دیکھا۔
معصوم ، بھولی، بڑی بڑی آنکھوں والی، کسی ملکہ کی طرح کی چال چلتی ہوئی لڑکی سٹیج پر آئی اور ایک پر وقار انداز سے اس نے اپنا سرٹیفکیٹ وصول کیا اور سب سے اگلی سیٹوں میں سے اپنی کرسی پر بیٹھ گئی۔
سارے مجمعے میں وہی ایک قابل دید لڑکی تھی،

میں نے بھی اپنا ایوارڈ حاصل کیا اور تھوڑی دیر بعد میرے جاننے والے نوجوان نے مجھے اس معصوم اور چھوٹی لڑکی سے متعارف کروایا کہ یہ فلاں ٹیلی ویژن پر کام کرنا چاہتی ہیں۔
ابھی ایک اوسطا کم درجے کے ٹیلی ویژن چینل سے منسلک ہیں۔
میں نے لڑکی سے وعدہ کیا کہ میں کوشش کروں گا ۔
وہ کچھ عرصہ مجھ سے رابطہ نہ کر سکی اور میں نے بھی کسی سے بات نہ کی۔
کسی پروگرام کے سلسلے میں ایک ٹی وی چینل جانا ہوا تو وہاں یہی ننھی ،معصوم اینکر سے ملاقات ہونی۔
مجھے معلوم نہ تھا کہ اس کے لیے زندگی میں کامیابی کے دروازے اتنا جلد کھل جائیں گے۔
میں نے سفارش تو ضرور کی تھی لیکن اس میں سب سے بڑا دخل اس کا ٹیلنٹ،
اس کی گریس فل شخصیت ،
اچھی قسمت اور خدا کی غیبی مدد کا تھا ۔
وہ وہاں پروگرام کرنے لگی اور خبریں پڑھنے لگی تھی جس ٹی وی چینل پر جانا اس کا خواب تھا۔
ایک دو ماہ کے وقفے سے اس کا ایک دوسرا خواب بھی خدا نے پورا کیا اور پھر وہ ایک بہت بڑے براڈ کاسٹنگ کے ادارے سے بھی منسلک ہو گئی۔
وہ جو مانگتی خدا اسے دے دیتا۔
اس نے جو چاہا اسے ملا اور صرف 19 سال کی عمر میں اس نے وہ ریکارڈ حاصل کر لئے کہ میں نے زندگی میں اتنی کم عمری میں کسی کے پاس نہ دیکھے تھے ۔

یوں تو آپ نے زندگی میں بے شمار لوگوں کی کام کئے ہوں گے اور میں بھی میڈیا پرسن ہونے کے ناطے کئی ایک لوگوں کو ٹی وی چینلز، ریڈیو میں مواقع دلوانے کا سبب بنا
لیکن مجھے نہیں یاد کہ کسی نے بعد میں میرے ساتھ تعلق رکھا ہو یا میرا شکریہ ادا کیا ہو
جبکہ اس بچی نے نہ صرف میرا خیال رکھا ،
میرے ساتھ رابطہ رکھا ،
مجھے اپنے گھر والوں سے متعارف کرایا ،
مجھے عزت اور مقام اور وہ رتبہ دیا جو مجھے پہلے کبھی نہیں ملا تھا۔
میں نے جب اس لڑکی کو دیکھا تھا یا اس کے کام کے لیے فون کیا تھا تو میں یہی سمجھا تھا کہ یہ بھی باقی میڈیا گرلز کی طرح کی ہوگی، مجھ سے کام لے گی اور آگے نکل جائے گی
لیکن اس نے مجھے بہت مایوس کیا، اس نے مجھے اس طرح مایوس کیا کہ اس نے میری سوچوں کے برعکس مجھ سے بہت خلوص اور عزت کا رشتہ رکھا، جو آج تک قائم ہے اور شاید ہمیشہ قائم رہے۔
میں اس کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آج وہ جس جگہ ہے، جس مقام پر ہے اس سے بہت آگے جائے گی اور دنیا دیکھے گی کہ وہ میڈیا انڈسٹری میں اگلے 30 سال تک راج کرے گی
کیونکہ جو کوالٹیز اس لڑکی میں ہیں، وہ باقیوں میں نہیں ہیں۔
اس کی گفتگو ،
اس کی پریزنٹیشن،
اس کے اداب و اطوار،
اس کا اٹھنا بیٹھنا ،
کھانا پینا ،
گفتگو کے اداب،
اس کی پرفارمنس،
اس کی چال ڈھال،
سب باکمال ہے
اور یہی کوالٹیز اسے میڈیا کی دوسری لڑکیوں سے نمایاں کرتی ہیں۔
اس کے علاوہ جو سب سے بڑی بات ہے وہ اس کا خاندانی حسب نسب ہے،
جب کوئی کسی سے بات کرتا ہے، کسی سے تعلق رکھتا ہے ،تو اس کی گفتگو ا!س کے رویوں سے، اس کے خاندان کی عکاسی ہوتی ہے۔
اسی لیے اس لڑکی سے بات کر کے انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وہ اعلی خاندان کی چشم و چراغ ہے جو کہ سچ ہے ۔
آپ لوگوں نے اسے بارہا خبریں پڑھتے ہوے اور پروگرام کرتے دیکھا ہے
اور اس کے انداز کے،
اس کی ادائیگی کے ،
اور اس کے حسن کے معترف بھی ہیں۔
اگر مجھے اس کی تعریف کرنا پڑے تو میں یہی کہوں گا
کہ

ایک لڑکی کو دیکھا
تو ایسا لگا
جیسے کھلتا گلاب
جیسے شاعر کا خواب
جیسے اجلی کرن
جیسے بن میں ہرن
جیسے چاندنی رات
جیسے نرمی کی بات
جیسے مندر میں ہو
ایک جلتا دیا

ہوووووو
ایک لڑکی کو دیکھا
تو ایسا لگا

جاوید اختر کے ان اشعار سے بہتر میں اس حسینہ کی تعریف میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔
بس میں اس سے یہی کہوں گا
کہ تم جیسی ہو
جہاں ہو
خدا اور اونچے مقام پر لے جائے تمہیں اور ترقیاں دے

اور ایسے لوگ اور کولیگ
جو تم پر ڈورے ڈالتے ہیں،
ٹرائیاں مارتے ہیں۔
اور یہ سوچتے ہیں کہ کبھی یہ مچھلی جال میں پھنس جائے گی
تو ان کے لیے میں یہی کہوں گا
کہ

نہ جانے کہاں سے آئی ہے،
نہ جانے کہاں پہ جائے گی

کسی کے ہاتھ نہ آئے گی
یہ لڑکی

مزید خبریں