اسلام آباد(سعد عباسی) اسلام آباد کے سیکٹر H-9 اتوار بازار میں 23 جون 2026 کو لگنے والی شدید آگ پر کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد مکمل قابو پا لیا گیا ہے، جبکہ کولنگ کا عمل جاری ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ سے تقریباً 70 دکانوں کے متاثر ہونے کی خبر سامنے آئی تھی، تاہم بعد ازاں تصدیق شدہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آگ کی شدت اور تیزی کے باعث 335 سے زائد دکانیں اور اسٹالز مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے۔
ابتدائی تحقیق کے مطابق آگ مبینہ طور پر شارٹ سرکٹ کے باعث لگی، جو تیز ہوا کے سبب بازار کے کم از کم 9 مختلف سیکشنز تک پھیل گئی۔ سب سے زیادہ نقصان کپڑوں، قالینوں اور جوتوں (بلاک C) کے اسٹالز کو پہنچا۔ بعض دکانوں میں موجود سولر بیٹریوں کے پھٹنے سے دھماکے بھی ہوئے، جس نے آگ کی شدت میں مزید اضافہ کیا۔
ریسکیو 1122، سی ڈی اے فائر بریگیڈ کی 30 سے زائد گاڑیوں اور راولپنڈی سے طلب کیے گئے اضافی فائر ٹینڈرز نے آپریشن میں حصہ لیا۔ پاکستان ائیر فورس کے فائر ٹینڈرز نے بھی امدادی کارروائیوں میں معاونت فراہم کی۔ خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان یا شدید زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
متاثرہ دکانداروں اور تاجر برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدار انکوائری کرائی جائے، نقصان کا فوری اور درست تخمینہ لگایا جائے اور متاثرین کو مالی امداد یا بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ بازار میں الاٹمنٹ کے نظام کو شفاف بنایا جائے تاکہ مستحق افراد کو ہی دکانیں دی جائیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کا 14 نکاتی متن سامنے آگیا
ضلعی انتظامیہ اسلام آباد نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ نقصانات کے تعین اور متاثرہ تاجروں کی بحالی کے لیے ایک 8 رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر آفس کے مطابق کمیٹی کو 3 دن کے اندر آگ لگنے کی وجوہات، اس کے پھیلاؤ کے عوامل، مجموعی نقصان کا تخمینہ اور ریسکیو اداروں کے رسپانس ٹائم کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کمیٹی یہ بھی سفارشات پیش کرے گی کہ باقی محفوظ حصے کو کیسے فعال کیا جا سکتا ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر شہری بازاروں میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات اور حفاظتی اقدامات پر سوالات اٹھا رہا ہے۔











