لندن(روشن پاکستان نیوز) سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر برطانوی اور اسکاٹش سیاست سے متعلق مواد شیئر کرنے والے کریئیٹر “StraightTaeThePointAgain” کی ایک ویڈیو نے صارفین کے درمیان دلچسپ بحث چھیڑ دی ہے۔ ویڈیو میں دو برطانوی پارلیمنٹرینز کے درمیان ہونے والے مصافحے کو بعض صارفین نے غیر معمولی قرار دیتے ہوئے اس کے مختلف سیاسی اور نظریاتی پہلوؤں پر سوالات اٹھائے ہیں۔
ویڈیو کے کمنٹس سیکشن میں متعدد صارفین نے دعویٰ کیا کہ مصافحے کا انداز مبینہ طور پر کسی خفیہ تنظیم یا سیاسی گروہ سے وابستگی کی علامت ہو سکتا ہے۔ بعض افراد نے اسے ’’میسونک ہینڈ شیک‘‘ قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے ’’فیبین سوسائٹی‘‘ سے منسوب کرنے کی کوشش کی۔ تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا گیا اور یہ تمام آراء سوشل میڈیا صارفین کی ذاتی تشریحات پر مبنی ہیں۔
مذکورہ ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر حالیہ دنوں میں برطانوی اور اسکاٹش سیاست سے متعلق متعدد ویڈیوز شیئر کی گئی ہیں، جن میں سیاسی رہنماؤں، خصوصاً جان سوئنی اور کیئر اسٹارمر کی پالیسیوں اور فیصلوں پر تنقیدی تبصرے شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ویڈیو نے سیاسی طور پر متحرک صارفین اور مختلف نظریات رکھنے والے حلقوں کی توجہ حاصل کی۔
ویڈیو کے اردگرد ٹک ٹاک کی روایتی فیڈ بھی موجود ہے، جس میں مشہور شخصیات کے اکاؤنٹس، ٹرینڈنگ ہیش ٹیگز اور دنیا بھر سے مختلف نوعیت کا مواد شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے پلیٹ فارمز پر سیاسی شکوک و شبہات، علامتی تشریحات اور سازشی نظریات سے متعلق مواد نسبتاً زیادہ توجہ حاصل کرتا ہے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا
عوامی ردعمل
ایک صارف نے لکھا، “یہ صرف ایک عام مصافحہ ہے، لوگ غیر ضروری طور پر اس میں معنی تلاش کر رہے ہیں۔”
دوسرے صارف کا کہنا تھا، “سیاست میں اشاروں اور علامتوں کی اہمیت ہوتی ہے، اس لیے عوام کے سوالات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔”
ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، “سوشل میڈیا پر ہر واقعے کو سازش سے جوڑ دینا درست نہیں، حقائق اور قیاس آرائی میں فرق ہونا چاہیے۔”
بعض صارفین نے مطالبہ کیا کہ سیاسی شخصیات کے حوالے سے کسی بھی دعوے کو قبول کرنے سے قبل مستند شواہد اور قابلِ اعتماد معلومات کا انتظار کیا جانا چاہیے۔
ڈیجیٹل میڈیا ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر سیاسی شکوک و شبہات اور سازشی نظریات پر مبنی مباحث کس تیزی سے پھیلتے ہیں اور کس طرح ایک مختصر ویڈیو بھی وسیع عوامی بحث کا موضوع بن سکتی ہے۔











