سوئٹزرلینڈ میں ایران امریکا مذاکرات کی اندرونی کہانی کیا؟ شہباز شریف کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں کیوں؟

اسلام آباد / برگن اسٹاک (روشن پاکستان نیوز )  سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے منسوب ایک دعویٰ گردش کر رہا ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ وہ مذاکرات کے دوران جذباتی اور پریشان نظر آئے۔

ذرائع کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے مبینہ طور پر ایرانی وفد کو مذاکرات جاری رکھنے پر قائل کرنے کی کوشش کی، تاہم ایرانی وفد نے مبینہ طور پر امریکی دھمکیوں کے باعث بات چیت سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔ ان دعوؤں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کسی بھی دباؤ میں نہ آنے کا مؤقف اختیار کیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل بیانات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کا چہرہ اس صورتحال میں پریشانی کی علامت ظاہر کر رہا تھا اور وہ ممکنہ معاہدے کے ٹوٹنے پر تشویش کا شکار تھے۔

تاہم اس حوالے سے نہ تو پاکستان حکومت اور نہ ہی ایران یا امریکا کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے، اور نہ ہی آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق ہو سکی ہے۔

بین الاقوامی مذاکرات کے دوران ثالث ممالک کے رہنماؤں کا کردار اکثر حساس اور دباؤ کا حامل ہوتا ہے، تاہم کسی بھی شخصیت کے جذبات یا نجی ردعمل کے بارے میں حتمی رائے صرف مستند اور تصدیق شدہ معلومات کی بنیاد پر ہی قائم کی جا سکتی ہے۔

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی کوششوں سے امن معاہدے پر دستخط ہوئے، سعودی ولی عہد

مذاکرات کے اگلے مرحلے میں تکنیکی بات چیت جاری رہنے کی توقع ہے، جس میں فریقین 60 روزہ روڈ میپ کے تحت حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔

مزید خبریں