آزاد کشمیر میں جاری بحران کا پرامن حل نکالا جائے، سردار اسد ابراہیم

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے رہنما سردار اسد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں جاری سیاسی و عوامی بحران کا فوری اور پرامن حل نکالا جانا چاہیے، کیونکہ انسانی جان سب سے قیمتی ہے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ہونے والی جدوجہد کو تصادم کی طرف لے جانا کسی کے مفاد میں نہیں۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے مرکزی صدر سید فضل کریم ایڈووکیٹ اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات سردار نوید حیات خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار اسد ابراہیم نے کہا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے اور اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ مسئلہ کشمیر پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر پیپلز پارٹی کی سیاست بانی آزاد کشمیر غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان اور سردار خالد ابراہیم خان کی جدوجہد اور نظریات کا تسلسل ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 19 جولائی 1947 کو سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ سری نگر میں قرارداد الحاق پاکستان منظور کی گئی تھی، جس نے کشمیری عوام کی سیاسی سمت کا تعین کیا۔سردار اسد ابراہیم نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک بنیادی طور پر آٹے، بجلی اور دیگر بنیادی حقوق کے مطالبات سے شروع ہوئی تھی، تاہم حکومت کی جانب سے معاملات کو سنجیدگی سے حل نہ کرنے کے باعث صورتحال پیچیدہ ہوتی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ماضی میں ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے بھی کیے اور بعد ازاں انہی عناصر کو کالعدم اور دہشت گرد قرار دینا شروع کر دیا، جو افسوسناک طرز عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی فرد نے قانون شکنی کی ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے، لیکن عوامی حقوق کے لیے نکلنے والے تمام لوگوں کو دہشت گرد قرار دینا مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جس سے دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔سردار اسد ابراہیم نے کہا کہ آزاد کشمیر کی حکومت پر موجودہ بحران کے حل کی بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران سیاسی عدم استحکام، بار بار حکومتوں کی تبدیلی اور غیر سنجیدہ سیاسی رویوں نے عوام کا اعتماد متاثر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کے تعلقات تاریخی، نظریاتی اور جذباتی بنیادوں پر قائم ہیں اور انہیں کسی صورت نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے بعض حلقوں کی جانب سے آنے والے ایسے بیانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا جن سے آزاد کشمیر کے آئینی تشخص اور مسئلہ کشمیر کے بین الاقوامی موقف پر سوالات اٹھتے ہیں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے مرکزی صدر سید فضل کریم ایڈووکیٹ نے کہا کہ ضلع پونچھ سمیت مختلف علاقوں میں غذائی قلت اور اشیائے خورونوش کی ترسیل میں رکاوٹوں کی اطلاعات تشویشناک ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کو درپیش مشکلات کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ عوامی حقوق کی تحریک کے نام پر پاکستان مخالف بیانیہ اختیار کرنا قابل مذمت ہے، جبکہ دوسری جانب طاقت کے استعمال اور تصادم کی سیاست بھی مسائل کا حل نہیں۔ تمام فریقین کو تحمل، بردباری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والے چند روز میں حکومت اور متعلقہ فریقین کے درمیان مذاکرات کے ذریعے بحران کا پرامن حل نکال لیا جائے گا تاکہ آزاد کشمیر میں معمولات زندگی بحال ہوں اور عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مزید خبریں