اسلام آباد (روبینہ مظہر): سید پور میں نالے کی زمین پر قائم غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے متعدد مکانات اور ایک گیسٹ ہاؤس خالی کروا لیا گیا۔ متعلقہ حکام کے مطابق یہ اقدام علاقے میں تجاوزات کے خاتمے اور مستقبل میں سیلابی خطرات سے بچاؤ کے لیے کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال نالے پر قائم تجاوزات کے باعث وادی میں شدید سیلاب آیا تھا، جس کے بعد غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں قابض افراد کو گزشتہ چھ ماہ کے دوران کئی بار نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔
کارروائی کے دوران ان مکانات کو بھی خالی کروایا گیا جو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق بعض گھروں میں دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد رہائش پذیر تھے، جبکہ ایک مکان میں ایک سرکاری ملازم کرائے پر مقیم تھا۔
بری امام میں سی ڈی اے کا انسداد تجاوزات آپریشن، جھڑپیں اور کشیدگی
سی ڈی اے کے مطابق غیر قانونی طور پر کرایہ وصول کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی کارروائی جاری ہے۔
حکام نے مزید بتایا کہ کچھ ایسے افراد بھی سامنے آئے ہیں جنہیں پہلے ہی ماڈل ویلیج میں متبادل پلاٹس فراہم کیے جا چکے تھے، تاہم انہوں نے یہاں مزید مکانات تعمیر کر کے اپنے خاندانوں کے ذریعے ان پر قبضہ برقرار رکھا ہوا تھا۔ ایسی تمام رہائش گاہوں کو خالی کروایا جا رہا ہے۔
پہاڑی کی چوٹی پر قائم ایک گیسٹ ہاؤس بھی خالی کرا لیا گیا، جہاں 35 افراد رہائش پذیر تھے۔ حکام کے مطابق گیسٹ ہاؤس سے کرایہ وصول کرنے والے شخص کی شناخت کر لی گئی ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے ایف آئی آر درج کر دی گئی ہے۔
سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیاں قانون کے مطابق جاری رہیں گی۔











