اتوار,  21 جون 2026ء
گوگل کا نیا فیچر : جی میل صارفین کے لیے سہولت یا خطرہ؟

کیلیفورنیا : (روشن پاکستان نیوز) گوگل نے جی میل صارفین کے لیے اے آئی پر مبنی سمریز کا فیچر متعارف کرا دیا ہے، تاہم مذکورہ سہولت سے پرائیویسی پر نئے سوالات کھڑے ہوگئے۔

گوگل نے اپنے ای میل پلیٹ فارم جی میل میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی “ای میل سمری” فیچر متعارف کرانے کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت جیمنائی صارفین کی ای میلز کا خلاصہ تیار کرکے اہم معلومات نمایاں کرے گا۔

بی جی آر ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق گوگل کی جانب سے جیمنائی پر مبنی ای میل سمریز کو جی میل کے مفت صارفین کے لیے بتدریج متعارف کرایا جا رہا ہے، فی الحال یہ سمریز محدود ای میل تھریڈز پر کام کرتی ہیں۔

یہ فیچر گوگل کی جانب سے ورک اسپیس ایپلی کیشنز میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کا حصہ ہے۔

اس سے قبل گوگل ڈاکس، شیٹس اور ڈرائیو میں بھی جیمنائی سے چلنے والی متعدد سہولیات متعارف کرائی جا چکی ہیں، جن کے ذریعے صارفین مواد تحریر، ترمیم، ڈیٹا منظم اور مختلف کام خودکار طریقے سے انجام دے سکتے ہیں۔

تاہم نئے فیچر نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گوگل صارفین کو یہ اختیار فراہم نہیں کرتا کہ وہ مختلف ایپلی کیشنز میں جیمنائی کی سہولیات کو الگ الگ فعال یا غیر فعال کر سکیں۔

موجودہ نظام کے تحت اگر کوئی صارف جی میل میں جیمنائی کی رسائی بند کرنا چاہے تو اسے گوگل ورک اسپیس کی تمام “اسمارٹ فیچرز” بند کرنا پڑتی ہیں۔ یعنی صارف صرف جی میل کے لیے اے آئی کو غیر فعال نہیں کر سکتا بلکہ اسے مکمل سسٹم سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔

پاسپورٹ موبائل ایپ سے متعلق اہم خبر آگئی

ٹیکنالوجی مبصرین کے مطابق بعض صارفین گوگل شیٹس یا ڈاکس میں اے آئی کی مدد کو مفید سمجھتے ہیں، تاہم وہ نہیں چاہتے کہ مصنوعی ذہانت ان کی ذاتی ای میلز تک رسائی حاصل کرے۔ ایسے صارفین کے لیے موجودہ “سب کچھ یا کچھ بھی نہیں” پالیسی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گوگل کی اے آئی خصوصیات کئی معاملات میں کارآمد ثابت ہو سکتی ہیں، خصوصاً ڈیٹا آرگنائزیشن، دستاویزات کی تیاری اور خودکار کاموں کے حوالے سے۔ تاہم ای میلز جیسے حساس اور نجی شعبے میں صارفین زیادہ کنٹرول اور شفافیت کے خواہاں ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق گوگل اگر صارفین کو ہر ایپ کے لیے علیحدہ اے آئی کنٹرول فراہم کرے تو یہ پرائیویسی اور سہولت کے درمیان بہتر توازن قائم کر سکتا ہے۔ فی الحال صارفین کو یا تو تمام اے آئی سہولیات قبول کرنا ہوں گی یا پھر انہیں مکمل طور پر غیر فعال کرنا ہوگا۔

ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار پیش رفت کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل رازداری اور صارف کے اختیارات کا مسئلہ بھی مستقبل میں مزید اہمیت اختیار کرے گا۔

مزید خبریں