اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایچ آئی وی ایڈز کے کیسز میں اضافہ کے بعد 5 اقسام کی سرنجوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے مصطفی کمال نے بتایا کہ تونسہ اور اسلام آباد کے حوالے سے ایڈز کے کیسز میں اضافے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
وزیرصحت نے کہا کہ مرض کی روک تھام کیلیے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی۔
کیسز میں اضافے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ استعمال شدہ سرنجز کے استعمال کے باعث ایچ آئی وی ایڈز کیسز میں اضافہ ہوا۔
مصطفی کمال کے مطابق ملک میں مجموعی طور پر 3 لاکھ 66 ہزار افراد ایڈز کا شکار ہیں، ایچ آئی وی ایڈز کوئی لاعلاج مرض نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبوں سے مل کر اس مرض پر قابو پانے کیلئے کام کررہے ہیں، حکومت کی جانب سے پانچ اقسام کی سرنجوں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
سوناایک ہی روزمیں8600روپے سستا،فی تولہ کتنے کاہوگیا؟
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ وزارت قومی صحت نے اسلام آباد میں ایڈز کیسز سے متعلق میڈیا رپورٹس پر وضاحت جاری کرتے ہوئے تردید کی تھی کہ ایڈز کیسز میں خطرناک اضافے کی خبر درست نہیں ہے۔
وزارت صحت کے مطابق اسلام آباد میں ایڈز کی وبائی صورت حال کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے، دارالحکومت میں ماہانہ ایچ آئی وی کیسز کی تعداد معمول کے مطابق ہے اور ماہانہ کیسز کی تعداد میں کمی بیشی نارمل ہے۔
وزارت قومی صحت کا کہنا ہے کہ شہریوں میں ایچ آئی وی ایڈز کے حوالے سے آگاہی بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے شہری اسکریننگ کرا رہے ہیں، اگر اسکریننگ بڑھے گی تو کیسز زیادہ رپورٹ ہوں گے، اس لیے ایچ آئی وی ایڈز کیسز میں اضافہ وبائی صورت حال کی علامت نہیں ہے۔











