اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا کے عوام کو خوشخبری سنادی ہے۔
وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں خیبرپختونخوا کے عوام کا مقدمہ لڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ این ایف سی اپڈیٹ ہوگا، سیاسی معاملات پر بھی جلد جواب دیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 180 دن میں اتفاق رائے نہیں ہوا تو صدارتی آرڈر کے ذریعے این ایف سی اپڈیٹ کیا جائے گا، نئے این ایف سی ایوارڈ میں ضم شدہ اضلاع کا مالی حصہ شامل کیا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اے آئی پی میں مجوزہ کٹوتی مذاکرات کے بعد کافی حد تک بہتر ہوئی ہے، امید ہے ضم شدہ اضلاع کی اے ڈی پی اور اے آئی پی کے حصے میں مزید بہتری آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 151 کے تحت اشیائے ضروریہ کی آزادانہ نقل و حمل یقینی بنانا وفاق کی ذمہ داری ہے، معاہدے کے تحت ایک لاکھ 75 ہزار ٹن گندم خیبرپختونخوا کے عوام کو فراہم کی جائے گی۔
علیمہ خانم نے سہیل آفریدی کو ٹوک دیا، تنبیہ کر دی
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے یقین دہانی کروائی ہے کہ گندم کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ، احساس پروگرام اور شیلٹر ہومز جیسے فلاحی منصوبے صوبے میں جاری ہیں، صوبے کا 26.7 فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے جس کے فروغ کے لیے فنڈ مختص کریں گے۔











